مختاران مائی کیس

مختارراں مائی کے کیس میں اٹارنی جنرل نے افسانوی رخ اختیار کیا ۔ نمعلوم اس سے کیس کو قانونی طور پر فائدہ ہو گا یا نقصان ۔ دراصل اس کیس کو پہلے تو پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کر کے نقصان پہنچایا اور پھر کچھ این جی اوز نے بشمول اسماء جہانگیر اس کو بجائے بطور لیگل کیس مضبوط کرنے کے اپنی دکان چمکانے کے لئے ایک سیا سی مسئلہ بنا کر مزید نقصان پہنچایا ۔ اس دوران کئی کارآمد شہادتیں ضائع ہو گئیں ۔

اب بھی اگر حکومت یا پولیس چاہے تو جرگہ میں موجود افراد میں سے کچھ کو صحیح اور سچے بیانات دینے پر مجبور کر سکتی ہے مگر اس کے لئے ان گواہوں اور ان کے خاندانوں کو مکمل اور دیرپا تحفظ فراہم کرنا ہو گا ۔ فوری طور پر تیرہ کے تیرہ ملزموں گرفتار کرنا پہلا قدم ہو گا ۔ اگر اس میں کسی بھی وجہ سے تاخیر ہوئی تو کیس کی صحت کے لئے اچھا نہ ہو گا ۔

Advertisements

میرے وطن تیری جنّت میں آئیں گے اک دن JK1

انشاء اللہ العزیز

ستم شعار سے تجھ کو  چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنّت میں آئیں گے اک دن

میرا وطن جموں کشمیر جس کے متعلق علّامہ اقبال نے کہا ۔
گر فردوس بر روئے زمیں است ۔ ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
مطلب ۔ اگر جنت زمین کی سطح پر ہے تو یہی ہے اور یہی ہے اور یہی ہے

دانیال نے کچھ دن قبل خواہش ظاہر کی تھی کہ میں مسئلہء جموں کشمیر کے متعلق کچھ لکھوں ۔ دانیال سے لکھنے کا وعدہ کر کے میں مشکل میں پھنس گیا ۔ نہ میرے سچے جذبات کے اظہار کے لئے مجھے مناسب الفاظ ملتے ہیں اور نہ میری انگلیاں دماغ سے اُمڈتے ہوئے سیلاب کا ساتھ دیتی ہیں ۔ پھر ایک اور سوچ کہ کہاں سے شروع کروں کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں کیونکہ جموں کشمیر کا مسئلہ لاکھوں انسانوں کی پچھتر سالہ جّد و جہد اور اٹھاون سالوں پر محیط اذیّتوں کی روئیداد ہے اور اس مسئلہ کو پچھلی آدھی صدی میں گما پھرا کر اتنا کمپلیکس بنا دیا گیا ہے کہ عام آدمی تو ایک طرف رہا ۔ خود جموں کشمیر کے رہنے والوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے ۔ دانیال کا اشارہ حریت کانفرنس کے چند ارکان کے دورہء پاکستان کی طرف تھا ۔ چنانچہ سوچا کہ یہاں سے آغاز کیا جائے ۔ پھر اللہ جہاں لے جائے ۔

حریت کانفرنس کے جو لوگ پاکستان آئے تھے ان میں سے سوائے ایک دو کے باقی سب حکومتوں کے بنائے ہوئے لیڈر ہیں اور مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں میں کوئی نمائندگی نہیں رکھتے ۔ جے کے ایل ایف (جموں کشمیر لبریشن فرنٹ) پاکستان کے سربراہ امان اللہ خان نے 25 جون 2005 کو اپنی کتاب جہد مسلسل حصہ دوم کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے خود کہا کہ انہوں نے 1988 میں آئی ایس آئی کی مدد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلح تحریک شروع کی تھی ۔ خیال رہے کہ امان اللہ کے بھی مقبوضہ جموں کشمیر میں کوئی پیروکار نہیں ہیں ۔ جے کے ایل ایف بےنظیر بھٹو کے دور حکومت اور اسی کی پشت پناہی سے معرض وجود میں آئی ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نمائندے پاکستان کے دورہ کے دوران زیادہ تر پاکستان کی حکومت کی ہی تعریفیں کرتے رہے

پاکستان کا دورہ کرنے والوں میں ایک دو کے تھوڑے پیروکار ہیں ۔ لیکن جو مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کے اصل نمائندے ہیں وہ پاکستان نہیں آئے کیونکہ وہ جنگ بندی لائن ۔ جسے ذوالفقار علی بھٹو نے لائن آف کنٹرول مان لیا تھا ۔ کو نہیں مانتے اور بھارتی بس میں اسے عبور کرنے کو وہ اسے مستقل سرحد قبول کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں ۔

پاکستان میں قیام کے دوران ایک تھوڑے پیروکاروں والے یاسین ملک نے کہا

ہم سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ دو سال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے ۔ نارائن اور طارق عزیز بڑے فیصلے کر رہے ہیں ۔ سی بی ایمز ہو رہے ہیں ۔ ہمیں کسی نے پوچھا ؟

واپس جا کر عباس انصاری (پرویز مشرف کا نمائندہ) نے جو بیان دیا ہے اس کے مطابق جموں کشمیر کا فیصلہ وہاں کے باشندوں کے نمائندوں کی مذاکرات میں شمولیت کے بغیر ہو سکتا ہے ۔ یہ بات کیسے مانی جاسکتی ہے کہ جن کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے اور جنہوں نے اس کے لئے صرف پچھلے پندرہ سال میں لاتعداد اذیّتیں سہیں ۔ جن کے سینکڑوں گھر جلا دیئے گئے ۔ جن کے ایک لاکھ سے زائد پیاروں کو شہید کر دیا گیا اور جن کی ہزاروں ماؤں بہنوں بیویوں بیٹیوں اور بہوؤں کی عزتیں لوٹی گئیں ۔ ان کو شامل کئے بغیر ان کی قسمت کا فیصلہ ایک کافر دشمن اور دوسرا ملٹری ڈکٹیٹر مل کے کر دیں ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پرویز مشرف کی خفیہ نے حریّت کانفرنس کو کمزور کرنے کے لئے عباس انصاری کو لیڈر بنا کر حریّت کانفرنس میں پھوٹ ڈالی تھی ؟ اور اب مقصد حاصل ہو جانے کے بعد پاکستان بلا کر عمر فاروق کو حرّیت کانفرینس کا سربراہ بنا دیا۔ اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ جو لوگ آئے تھے ان کا اصلی لیڈر کون ہے (پرویز مشّرف) ۔

جو کھیل ہماری حکومت اپنے آقاؤں (امریکی حکومت) کے اشارہ پر کھیل رہی ہے اس کا ذاتی فائدہ پرویز مشرف کو اور سیاسی فائدہ بھارت کو ہو رہا ہے ۔ نہ صرف جموں کشمیر کے لوگ بلکہ پاکستانی عوام بھی خسارے میں ہیں ۔ پرویز مشرف نے یک طرفہ جنگ بندی اختیار کی جس کے نتیجہ میں ۔ ۔ ۔

بھارت نے پوری جنگ بندی لائین پر جہاں دیوار بنانا آسان تھی وہاں دیوار بنا دی باقی جگہ کانٹے دار تاریں بچھا دیں یعنی جو سرحد بین الاقوامی طور پر عارضی تھی اسے مستقل سرحد بنا دیا ۔

سرحدوں سے فارغ ہو کر بھارتی فوجیوں نے آواز اٹھانے والے کشمیری مسلمانوں کا تیزی سے قتل عام شروع کر دیا اور متواتر روزانہ دس سے بیس افراد شہید کئے جارہے ہیں ۔ معصوم خواتین کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں اور گھروں کو جلا کر خاکستر کیا  جا رہا ہے ۔ کئی گاؤں کے گاؤں فصلوں سمیت جلا دیئے گئے ہیں ۔

بگلیہار ڈیم جس پر کام رُکا پڑا تھا جنگ بندی ہونے کے باعث بھارت بڑی تیزی سے تقریبا مکمل کر چکا ہے اور تین اور ڈیموں کی بھی تعمیر شروع کر دی گئی ہے ۔

کمال یہ ہے کہ پاکستان کی دوستی کی دعوت کے جواب میں بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گلگت اور بلتستان پر بھی اپنی ملکیت کا دعوی کر دیا ہے جبکہ گلگت اور بلتستان کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھے اور نہ یہاں سے کوئی راستہ بھارت کو جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج کے زبردستی جموں میں داخل ہونے سے بھی پہلے گلگت اور بلتستان میں اپنی حکومت قائم کر کے ان کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا ۔ مختصر یہ کہ میجر حسن خان یکم ستمبر 1947ء کو جب کشمیر سےاپنی رائفل کمپنی کے ساتھ بونجی (گلگت) کی طرف روانہ ہوا تھا تو اس نےپّاکستان کا نعرہ لگایا اور پوری کمپنی نے بآواز بلند زندہ باد کہا ۔ یہ کمپنی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتی اور باقی لوگوں کو ساتھ ملاتی بونجی پہنچی ۔ یہ گلگت اور بلتستان کے پاکستان سے الحاق کا اعلان تھا جس کی منصوبہ بندی 19 جولائی 1947ء کو آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس کے اہم اجلاس میں قرارداد الحاق پاکستان کے منظور ہونے کے ساتھ ہی کر لی گئی تھی ۔ میجر حسن خان نے یکم نومبر 1947ء تک اپنی آزاد حکومت قائم کر کے ‍قائد اعظم کو مطلع کیا جس کے نتیجہ میں 15 نومبر 1947ء کو پاکستان کے نمائندہ سردار عالم نے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر عنان حکومت سنبھال لیا تھا ۔

اللہ سُبْحَانُہُ و تَعَالٰی ہماری مدد فرمائے اور ایسا نہ ہو آمین مگر آثار یہی ہیں کہ جب متذکّرہ بالا ڈیم مکمل ہو جائیں گے تو کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر دے گا اور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک لے گا ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرویز مشرف نے منگلا ڈیم کو دس میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی امید نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ کیوں ضائع کیا جا رہا ہے ؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔ ایک زمنی بات ۔ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اونچائی سے دس میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962 میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اونچائی دس میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو کسی کی پرواہ نہ نہیں ۔

باقی انشا اللہ آئیندہ

ہائے کیا کروں ؟

ہائے کیا کروں ؟ وقت نہیں ملتا۔ بہت مصروف ہوں ۔ ۔ ۔ سوری ۔ سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ۔ ۔ ۔ کیا کروں یہاں تو مرنے کی بھی فرصت نہیں ۔ ۔ ۔ آجکل اس طرح کے الفاظ ہر جگہ اور ہر دم سننے میں آتے ہیں۔ یہ تکیہ کلام لگ بھگ بیس سال قبل بہت بڑے آفیسروں سے شروع ہوا ۔ پھر نیچے کی طرف سفر شروع کیا ۔ چھوٹے آفیسروں نے بڑے لوگوں کی نشانی سمجھ کر اپنایا ۔ پھر جوانوں نے ترقی کا راستہ سمجھتے ہوئے اختیار کیا۔ گویا یہ تکیہ کلام وباء کی صورت اختیار کر گیا ۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سکول کے بچے ۔ بالخصوص بچیاں ۔ یہی کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں۔ بچوں کی سطح پر ابھی یہ مرض زیادہ تر بڑے گھرانوں اور اپنے آپ کو ترقی یافتہ یا ماڈرن سمجھنے والے گھرانوں میں پھیلا ہے مگر ڈر ہے کہ درمیانے طبقہ کے لوگ جو آئے دن روشن خیالی کا راگ سنتے ہیں ۔ وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو جائیں گے کیونکہ آخر ان کا بھی دل چاہتا ہے بڑے آدمی بننے کو ۔ اصل میں تو بیچارے بڑا بننے سے رہے۔ کم از کم گفتار میں تو بن جائیں۔ اس کے لئے تو کوئی روپیہ پیسہ بھی درکار نہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالی کی بڑی مہربانی رہی مجھ پر کہ میرے بچے اس سے محفوظ رہے۔ بڑے بیٹے زکریا کا ایک واقعہ تیرہ سال پہلے کا مجھے یاد ہے۔ اس کا انجنئرنگ کا تھرڈ ایئر کا سالانہ امتحان تھا۔ اگلے دن صبح پرچہ تھا۔ ایک لڑکا جو کسی اور کالج کا طالب علم تھا۔ شام سے پہلے سوال سمجھنے آیا۔ سمجھتے سمجھتے رات کے نو بج گئے۔ ہم لوگ آٹھ بجے کھانا کھاتے تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے ڈرائنگ روم میں جا کر کہا۔ بیٹے آپ نے ابھی کھانا بھی کھانا ہے اور پھر سونا کب ہے ۔ کل آپ کا پرچہ ہے۔ یہ سن کر وہ لڑکا ایک دم یہ کہتے ہوۓ اٹھا۔” ہیں ؟ امتحان ؟ اس نے مجھے بتایا ہی نہیں” اور وہ چلا گیا۔ امریکہ میں بھی زکریا ایسے ہی کرتا ہو گا۔ کیونکہ عادت بدلنا مشکل ہوتا ہے ۔

ہم پرانے وقتوں کے لوگ ہیں ۔ سکول کے ٹیسٹ میں دس میں سے دس کی بجائے نو نمبر آ جائیں تو گھر والے یوں گھورتے تھے جیسے کھا ہی جائیں گے۔ عام دن ہوں یا سالانہ امتحان چند دن بعد ہوں ۔ روزانہ تھیلا اور پیسے ہاتھ میں تھما کر کہا جاتا ۔ جاؤ سبزی منڈی سے سبزی لے کر آؤ اور دیکھو بھاگتے ہوئے جاؤ اور آؤ۔ واپس آ کر پڑھنا بھی ہے۔ روزانہ اپنے سکول جانے سے پہلے بہن کو سکول چھوڑنا اور چھٹی کے بعد اسے گھر لے کر آنا بھی میرا فرض تھا ۔ روزانہ انگریزی کا اخبار پڑھنا بھی میرے فرائض میں داخل تھا کہ اس سے انگریزی فرفر ہو جاتی ہے ۔ پہلے سول اینڈ ملٹری گزٹ پڑھتا رہا ۔ وہ بند ہو گیا تو پاکستان ٹائیم ۔ ایک ماہ میں دو بار چکی سےگندم پسوا کر لانا بھی میرا کام تھا ۔ ہفتہ وار چٹھی کے دن گھر کی جھاڑ پونچھ کرنا ہم سب بھائی بہنوں کا کام تھا۔ روزانہ ایک گھینٹہ ہاکی یا بیڈمنٹن یا باسکٹ بال کھیلنا بھی میرے لئے ضروری تھا کیونکہ والد صاحب کہتے تھے کہ صحت نہیں ہو گی تو پڑھائی کیسے ہو گی۔ رات کو نو بجے سو کر صبح ساڑھے تین چار بجے اٹھنا اور صبح سویرے سیر کے لئے جانا بھی صحت کے لئے ضروری تھا۔ لیکن مجال ہے کبھی دل میں یہ خیال گھسا ہو کہ میں مصروف ہوں ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میرے سب ساتھی لڑکوں کا بھی کم و بیش یہی حال تھا ۔

میرا خیال ہے ہماری تعلیم کے زمانہ میں ایک دن میں شاید چوبیس گھینٹے کام کے لئے اور آٹھ گھینٹے آرام کے لئے ہوتے ہوں گے ۔ کیا خیال ہے ؟

Anonymous Comment on “Urdu Medium School”

Following anonymous comments on my post “Urdu Medium Student” made me write another post.

Somehow I donot agree with you because I believe that a genius can be born to a rich or to a poor. And when you say that “How many of the “O”, “A” levels students are able to get admission in the high merit institutions like medical, engineering, etc ?”I dont agree here as well because the std of A levels and O levels is much higher then what is taught at metric or intermediate level. Students who are not able to clear the medical or engineering tests is not because they are not “genius” enough but because the course material is totally different.
the days when you were taught english was the time of british rule the language you use is mostly English and not American. What I see is that most Pakistani kids are more influenced with the American rather then the English and some of them are not even aware of the difference and thus we are building a confuse nation. I dont know what research and what knowledge you have but it will be good if you try to go out and see the reality rather then doing research on internet because 80% of information on internet is False. Islambad/ Wah is not even 1/3 of Pakistan try to look at a bigger picture for the future.

I do not say that genius are born only in the poor families. (By the way, what makes anybody think that I or my parents were poor ?) What I referred to in my previous post was in a different context.

Talking of entry tests is story of only past some years. What was happening before ? The contention, that course material is different, does not hold good. It does not call for only a genius to qualify in the entry test. Hard-working students with normal intelligence can get through.

I was not taught English under British rule. (I was a child then) I studied in Urdu medium school and then in Gordon College. Gordon College was run by American mission and we were taught American dialect of English while we were examined in pure English (British). So, we were in a difficult position. Present confusion among young generation is not created by American or British dialect of English but it is due to false status consciousness.

My knowledge is not confined to Islamabad, Wah and internet. However, I have been seeking knowledge from internet since internet started in Islamabad. The contention that 80% of information on the internet is false is not correct. It all depends upon one’s selection.

Allah had been kind enough to provide me chances (official) to go all over Pakistan and Azad Jammu & Kashmir in relation to education, management and public administration. In addition, having remained honorary inspector of examinations of Technical Education for two and a half years (1983-1985) and of engineering universities for seven years (1988-1996), problem of education and admissions always remained under discussion. Still whatever I say is my opinion and everybody is free to differ with me.

Kindly do not under-estimate Wah. It is a paradise of education. Literacy (Matric pass) in Wah is nearly 100% and sons / daughters of not only officers but of workers have become qualified doctors, engineers, economists, auditors, financial managers and what not. Post-graduate colleges, for boys and girls separately, have been functioning in Wah for decades. In addition, about 20 large sized buses used to carry students to different colleges / universities in Rawalpindi and Islamabad. On that many used to study at Lahore, Karachi, Peshawar and in Europe and USA. A medical college started functioning in Wah last year. The Technical Training Institute which Allah, SWT, got established by me in Wah (1983-1985) is, al-hamdu-lillah, fully matured to become an engineering degree college by the next admission session.

Population of Wah is about 231,000, which is 3.6% of Lahore or 1.89% of Karachi.