۔ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی JK5

سکھ حکمرانوں نے مسلمانوں پر ناجائز ٹیکس لگائے جس کے نتیجہ میں جموں کشمیر میں آزادی کی پہلی تحریک نے جنم لیا ۔ یہ تحریک 1832 میں شروع ہوئی اور سکھ حکومت کے جبر و استبداد کے باوجود 1846 تک جاری رہی جب انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر ان کی سلطنت پر قبضہ کر لیا ۔ انگریزوں نے باقی علاقہ تو اپنے پاس رکھا مگر جموں کشمیر کو پچھتر لاکھ یعنی ساڑھے سات ملین نانک شاہی سکوں کے عوض اپنے خاص خیرخواہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ بیچ دیا اور اسے جموں کشمیر کا خودمختار مہاراجہ بھی تسلیم کر لیا ۔ اس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے آزادی کی دوسری تحریک شروع کی جس کو کچلنے کے لئے گلاب سنگھ نے انگریزوں سے مدد مانگی اور اس تحریک کو سختی سے دبا دیا گیا ۔

ان دنوں لدّاخ چینیوں کے زیر انتظام تھا ۔ گلاب سنگھ نے لشکر کشی کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔ 1857 میں گلاب سنگھ کے مرنے کے بعد رنبیرسنگھ نے 1885 تک حکومت کی ۔ اس کے بعد پرتاب سنگھ 1925 تک حکمران رہا اور ہری سنگھ 1949 تک ۔

ڈوگرہ مہاراجوں کا دور جابرانہ اورھ ظالمانہ تھا ۔ نہ تحریر و تقریر کی آزادی تھی نہ مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کی ۔ مگر مہاراجہ ہری سنگھ نے تو انتہا کر دی ۔ اونچی آواز میں اذان اور جمعہ اور عیدین کے خطبہ پر بھی پابندی لگا دی گئی ۔ اس پر پوری ریاست میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ بزرگوں نے جوان قیادت کو آگے لانے کا فیصلہ کیا ۔ اتفاق رائے کے ساتھ جموں سے چوہدری غلام عباس ۔ سردار گوہر رحمان (ہمارے خاندان سے) ۔ شیخ حمید اللہ وغیرہ اور کشمیر سے شیخ محمد عبداللہ ۔ یوسف شاہ (موجودہ میر واعظ عمر فارو‍ق کے دادا) ۔ غلام نبی گلکار وغیرہ کو چنا گیا ۔ 26 جون 1931 کو سرینگر کی مسجد شاہ ہمدان میں جموں کشمیر کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوا جس میں پچاس ہزار مسلمانوں نے شرکت کی ۔

جب لیڈر حضرات آپس میں مشورہ کر رہے تھے ایک شخص جسے کوئی نہیں پہچانتا تھا نے اچانک سٹیج پر چڑھ کر بڑی ولولہ انگیز تقریر شروع‏ کر دی ۔اور آخر میں کہا مسلمانوں اشتہاروں اور جلسوں سے کچھ نہیں ہوگا اٹھو اور مہاراجہ ہری سنگھ کے محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دو ۔ اس شخص کا نام عبدالقدیر تھا وہ امروہہ کا رہنے والا تھا جو یوپی ہندوستان میں واقع ہے اور ایک انگریز سیاح کے ساتھ سرینگر آیا ہوا تھا ۔ اسے گرفتار کر لیا گیا ۔

13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کے خلاف مقدمہ کی سماعت سرینگر سینٹرل جیل میں ہو رہی تھی ۔ مسلمانوں کو خیال ہوا کہ باہر سے آیا ہوا ہمارا مسلمان بھائی ہماری وجہ سے گرفتار ہوا ہے ۔ سات ہزار کے قریب مسلمان جیل کے باہر جمع ہوگئے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں مقدمہ کی کاروائی دیکھنے دی جائے ۔ ڈوگرہ حکمرانوں نے اس کی اجازت نہ دی جس پر تکرار ہو گئی اور ہندو آفیسر نے بغیر وارننگ دیئے پولیس کو گولی چلانے کا حکم دے دیا ۔ بائیس مسلمان شہید اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ شہید ہونے والے ایک شخص نے شیخ عبداللہ سے کہا ہم نے اپنا کام کر دیا اب آپ اپنا کام کریں ۔

اسی شام جموں کے چوہدری غلام عباس ۔ سردار گوہر رحمان ۔ مولوی عبدالرحیم اور شیخ یعقوب علی اور کشمیر کے شیخ محمد عبداللہ اور خواجہ غلام نبی گلکار کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس پر غلامی کا طوق جھٹک دینے کے لئے جموں سے ایک زور دار تحریک اٹھی اور جموں کشمیر کے شہروں ۔ قصبوں اور دیہات میں پھیل گئی ۔ اس تحریک کے سربراہ چوہدری غلام عباس تھے ۔ پھر 1932 میں پہلی سیاسی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس تشکیل دی گئی ۔ شیخ محمد عبداللہ اس کے صدر اور چوہدری غلام عباس جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ یہ تحریک پورے جوش و خروش سے جاری رہی جس کے نتیجہ میں مہاراجہ ہری سنگھ جمہوری نظام قائم کرنے پر مجبور ہوا اور 1934 میں دستور ساز اسمبلی بنا دی گئی ۔ گو یہ مکمل جمہوریت نہ تھی پھر بھی مسلمانوں کے کچھ حقوق بحال ہوئے ۔ 1934 ۔ 1938 ۔ 1939 اور 1947 میں اس اسمبلی کے الیکشن ہوئے جن میں آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے 80 فیصد یا زائد نشستیں جیتیں ۔

Advertisements

3 thoughts on “۔ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی JK5

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s