اقبال دہشت گرد تھا ؟

علّامہ محمد اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو ان کی تمام تصانیف ضبط کر لی جاتیں اور ان کا نام خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ۔ ملاحظہ کے لئے چند شعر حاضر ہیں ۔

تیری دوا جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جا پنجہۂ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے غلامی سے امّتوں کی نجات
خودی کی پروش و لذّت نمود میں ہے
۔ ۔ ۔ ۔ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملّا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اس سے کہ مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہیئے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہء خونی سے ہو خطر

5 thoughts on “اقبال دہشت گرد تھا ؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s