Al Qaeda: a bogey?

All the video and audio cassettes of so-called Al-Qaeda leaders, Osama Bin Laden and his assistants, apart from Western media, were telecast / relayed by Al-Arabiya or Al-Jajeera. Al-Arabiya is official TV of Qatar government and Al-Jazeera is owned by Shaikhs of Qatar who are the government. Qatar is an American base and her shaikhs are puppets of American administration. In present world of advanced electronics and computer, videos of non-exitent activities can be produced, then why can’t experts of CIA / FBI produce videos / audios of Osama and his friends ? This way they are fooling the whole world.

Al Qaeda: a bogey?

To believe Bush, Blair and Sharon almost any carnage in any part of the globe can be traced to Osama bin Laden. The media blitz launched and constantly reinforced in support of this claim is highly effective. Claims of Osama and his Al Qaeda being involved in all such disasters are accepted without question. No proof is considered necessary. Quite forgotten, is the fact that the mother of all lies, nurtured and raised with great care, was the claim that weapons of mass destruction were present in Iraq and that Saddam posed an immediate threat to countries as far away as England and the US. Quite unabashed, the proven liars start perpetuating new lies to further their ends.

Let us assume Osama is really behind all the carnage he is accused of causing. It follows that he must have an effective, lethal network with a strong presence in countries as far away as Spain, Indonesia, the UK, the US, Iraq and Afghanistan. He must have effective deputies overseeing “international operations”, country “godfathers” directing operations in their respective countries, an inexhaustible supply of dedicated planning teams, bomb-makers and daredevil suicide bombers. The network must link all together in such an effective way that the bombings of the type seen in the UK can be carried out with clock-like planning and precision.

Assuming such to be the case, how come the US with its gigantic communication network and with the best surveillance equipment man has invented to date and with topmost sleuths operating it, is still not able to apprehend the mastermind? Again, with hundreds of hapless men interrogated (read tortured) in the most effective ways known to science, in Cuba and elsewhere, how come it has not been possible to produce a single witness before the world to date to testify in support of Osama’s involvement in any of the terrorist acts between September 9, 2001 in the US and July 7, 2005 in the UK inclusive?

To read in full click here

Advertisements

۔ آپریشن جبرالٹر JK16

آپریشن جبرالٹر 1965 کے متعلق جموں کشمیر بالخصوص مقبوضہ علاقہ کے لوگوں کے خیالات مختصر طور پر قلمبند کرتا ہوں ۔ یہ آپریشن ذوالفقار علی بھوٹو کی تجویز پر اور جنرل ایوب خان کی ہدائت پر کشمیر سیل نے تیار کیا تھا ۔ یہ سول سروس کے لوگ تھے ۔ خیال رہے کہ ہمارے ملک میں سول سروس کے آفیسران اور آرمی کے جنرل اپنے آپ کو ہر فن مولا سمجھتے ہیں اور کسی صاحب علم کا مشورہ لینا گوارہ نہیں کرتے ۔

آپریشن جبرالٹر کی بنیاد جن اطلاعات پر رکھی گئی تھی وہ ناقابل اعتماد پیسہ بٹور قسم کے چند لوگوں کی مہیّا کردہ تھیں جو مقبوضہ کشمیر کے کسی سستے اخبار میں اپنی تصویر چھپوا کر خبر لگواتے کہ یہ پاکستانی جاسوس مطلوب ہے اور پاکستان آ کر وہ اخبار کشمیر سیل کے آفیسران کو دکھاتے اور یہ کہہ کر بھاری رقوم وصول کرتے کہ وہ پاکستان کی خدمت اور جموں کشمیر کے پاکستان کے الحاق کے لئے جہاد کر رہے ہیں ۔ کچھ ماہ بعد وہ اسی طرح پاکستان کے کسی سستے اخبار میں اپنی تصویر کے ساتھ خبر لگواتے کہ یہ بھارتی جاسوس مطلوب ہے اور جا کر بھارتی حکومت سے انعام وصول کرتے ۔ اس کھیل میں مقبول بٹ پہلے پاکستان میں پکڑا گیا لیکن بھارتی ہوائی جہاز کے اغواء کے ڈرامہ کے بعد نامعلوم کس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اسے مجاہد بنا کر رہا کروا لیا مگر بعد میں وہ لندن میں گرفتار ہو کر بھارت پہنچا اور اسے سزا ہوئی ۔ اس کے پیروکار اسے شہید کہتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں جے کے ایل ایف بنائی ۔ مقبوضہ کشمیر والی جے کے ایل ایف کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

خیال رہے کہ 1965 تک کشمیر کے لوگ بآسانی جنگ بندی لائین عبور کر لیتے تھے ۔ میں 1957 میں پلندری میں گرمیوں کی چھٹیاں گزار رہا تھا کہ دو جوان سرینگر میں دکھائی جارہی فلم کے متعلق بحث کر رہے تھے میرے اعتراض پر انہوں نے کہا کہ فلم دیکھ کر آئے ہیں ۔ میں نے یقین نہ کیا تو دو ہفتے بعد وہ نئی فلم دیکھنے گئے اور واپس آ کر سرینگر کے سینما کے ٹکٹ میرے ہاتھ میں دے دیئے ۔ میں نے اچھی طرح پرکھا ٹکٹ اصلی تھے سرینگر کے سینما کے اور ایک دن پہلے کے شو کے تھے ۔

خیر متذکرہ بالا جعلی جاسوسوں نے کشمیر سیل کے آفیسران کو باور کرایا کہ جموں کشمیر کے لوگ بالکل تیار ہیں ۔ آزاد کشمیر سے مجاہدین کے جنگ بندی لائین عبور کرتے ہی جموں کشمیر کے تمام مسلمان جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ حقیقت یہ تھی کہ وہاں کے لوگوں کو بالکل کچھ خبر نہ تھی ۔ جب پاکستان کی حکومت کی مدد سے مجاہدین پہنچے تو وہاں کے مسلمانوں نے سمجھا کہ نجانے پھر نومبر 1947 کی طرح ان کے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے چنانچہ انہیں پناہ نہ دی نہ ان کا ساتھ دیا ۔ مقبوضہ کشمیر کےلوگوں کو بات سمجھتے بہت دن لگے جس کی وجہ سے بہت نقصان ہوا ۔

جنرل اختر ملک اور جنرل یحی کے درمیان کمان کی تبدیلی کے متعلق جنگ کے دوران چھمب جوڑیان میں موجود چند میجر اور لیفٹیننٹ کرنل کی سطح کے آفیسران کا کہنا تھا کہ جنرل اختر ملک کی کمان کے تحت پاکستان کے فوجی توی کے کنارے پہنچ گئے تھے اور توی عبور کر کے اکھنور پر قبضہ کرنا چاہتے تھے مگر انہیں کمان کی طرف سے اکھنور سے پہلے توی کے کنارے رک جانے کا حکم تھا اگر پیش قدمی جاری رکھی جاتی تو بھارت کو دفاع کا موقع نہ ملتا اور جموں کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا ہوتا ۔ کمان ہیڈ کوارٹر میں موجود ایک آفیسر کا کہنا تھا کہ جنرل یحی کمان ہیڈ کوارٹر پہنچ کر دو دن جنرل اختر ملک کا انتظار کرتا رہا کہ وہ آپریشن اس کے حوالے کرے ۔ اور ان دنوں میں محاز پر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔

اللہ جانے کہ کون غلطی پر تھا ۔ ہمارے ملک میں کوئی اپنی غلطی نہیں مانتا ۔

باقی انشاءاللہ آئیندہ

ميں مسکرایا پھر افسوس بھی ہوا

بعض اوقات انسان کسی چیز کو ثابت کرنے کی کوشش میں موضوع کو اتنا پھیلا دیتا ہے کہ قاری پر اس کا الٹا اثر ہوتا ہے ۔ دانیال صاحب نے ایک لمبی کہانی بنا دی ہے جس میں سب کو لپیٹ دیا ہے ۔ سائنس کی کتابوں میں انہیں اسلامیات مل گئی ہے ۔ یہ طویل معاملہ ہے اس لئے انشاء اللہ پھر کبھی ۔ سائنس میں قرآن کیوں ہے دیکھنے کے لئے یہا ں کلک کیجئے ۔

میں ایک سے زائد بار لکھ چکا ہوں کہ میں نے خود سیکھنے اور اپنا علم اور تجربہ دوسروں تک پہنچانے کے لئے روزنامچہ لکھنا شروع کیا تھا ۔ اس سلسہ میں بعض اوقات بحث سے علم میں اضافہ ہوتا ہے لیکن کبھی ایسے لگتا ہے جیسے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ میں ایسی صورت میں عام طور پر اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہوں ۔ آج بھی میں نے یہی سوچا تھا لیکن چونکہ سب کچھ مشکوک بن گیا ہے اس لئے کچھ لکھنا لازم ہو گیا ہے ۔

انلائیٹنڈ ماڈریشن کے پرستار سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے دنیا کو انلائیٹن کیا اور انسانوں کو ماڈریشن کی ہدائت کی ۔ یہ پیغام چودہ سو سال پہلے اللہ سبحانہ و تعالی نے حضرت محمد صلّ اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے ذریعہ تمام انسانوں تک پہنچا دیا ۔ اب پرویز مشرف اور اس کے پیروکار نمعلوم کونسی بانسری بجا رہے ہیں ۔ اسلام صرف اسلام ہے اس کے ساتھ کسی لاحقے یا سابقے کی ضرورت نہیں ۔ جب اللہ نے اسلام کو مکمل دین قرار دے دیا تو اس کو پرانا یا دقیانوسی کہنے والے اور ترامیم سوچنے والے کیا اپنے آپ کو اللہ عزیزالحکیم کے برابر یا زیادہ عقلمند سمجھتے ہیں ۔؟ نعوذ باللہ من ذالک

ٹھیک ہے کہ کلمہ پڑھنے سے انسان مسلمان ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی سوچیں کہ کلمہ میں پڑھتے کیا ہیں ۔ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور محمد اس کے پیغام لانے والے ہیں ۔ یعنی صرف اللہ کو معبود ماننا اور یہ کہ رسول اکرم نے جو کچھ کہا وہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ معشوق کی خوشنودی کے لئے عاشق کیا کچھ نہیں کرتا ۔ معبود کا درجہ معشوق سے بہت بلند ہے ۔ زندگی کا ہر عمل معبود کی خواہش کے مطابق کرنا پڑتا ہے ۔ معشوق کے لئے عاشق تخت چھوڑ دیتا ہے ۔ فقیر بنتا ہے ۔مہینوال بنتا ہے ۔ نہریں کھودتا ہے ۔ مجنون ہو جاتا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی تو اایسا نہیں چاہتا ۔ وہ تو صرف ہماری بہتری کے لئے ہمیں ایک اچھی اور باعزت زندگی گذارنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ ہم لوگ تو قرآن شریف کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر ترامیم بتانے لگ گئے ہیں کیا سائنس یا حساب کے ساتھ کبھی ہم نے ایسا کیا ہے ؟

پرویز مشرف صاحب کے حکومت پر قبضہ کرنے سے پہلے تقریبا چار ہزار مدرسے رجسٹرڈ تھے ۔ اس کے بعد نیا قانون بننے سے پہلے تک مزید کوئی مدرسہ رجسٹر نہیں ہوا تھا ۔ جو مدرسے رجسٹر نہیں ہوئے تھے وہ اس قابل نہیں تھے ۔ اس سلسہ میں انشاء اللہ پھر کبھی لکھوں گا ۔

مہاجر کا لاحقہ از خود نہیں بلکہ مجبور ہوکر چھوڑا گیا تھا ۔ لیکن یہ لاحقہ لگانے کا مقصد کیا تھا سوائے اس کے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو مقامی یعنی پاکستانی نہیں سمجھتے تھے ۔ ذرا ماضی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ مارچ 1984 میں بطور سٹوڈنٹ آرگنائزیشن معرض وجود میں آئی ۔ اس وقت پاکستان بنے 37 سال ہو چکے تھے ۔ اس وقت کے یونیورسٹی کے طلباء اور طالبات پاکستان بننے کے دس پندرہ سال بعد پاکستان میں پیدا ہونے کے باعث پیدائشی پاکستانی تھے ۔

دو سال بعد اگست میں ان کا پہلا سیاسی جلسہ نشتر پارک میں ہوا جس میں بہت سے جوان پستولوں اور بندوقوں سے نہ صرف لیس تھے بلکہ خوشی کے اظہار کے لئے انہوں نے خوب ہوائی فائرنگ کی ۔ اس قسم کی ہوائی فائرنگ پہلے صرف سرحد کے قبائلیوں کا امتیاز تھی ۔ اسلحہ کی اس نمائش کا کیا مقصد تھا ؟

محظ اتفاق ہے کہ جنوری 1989 کے آخری دنوں میں این ای ڈی انجئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کے ساتھ میری میٹنگ تھی ۔ میں وہاں پہنچا تو ایسا سماں تھا جیسے ایک ملک پر کسی دوسرے ملک کا قبضہ ہو گیا ہو ۔ میرے ڈرائیور نے گاڑی روکی مگر میں نے اسے چلنے کا کہا ۔ لڑکے آ ئے اور گاڑی کو گھیر لیا ۔ ان میں سے ایک نے جھک کر گاڑی کی نمبر پلیٹ دیکھی اور سب کو ہٹنے کا اشارہ کیا ۔ واقعہ بہت لمبا ہے ۔مختصر یہ کہ میں نے ایسی غنڈہ گردی پہلے کبھی یونیورسٹی کے باہر بھی نہ دیکھی تھی ۔ یونیورسٹی پر ایم کیو ایم کا سٹوڈنٹ ونگ قبضہ کر چکا تھا ۔

شومئی قسمت فروری کے تیسرے ہفتہ میں انجنئرنگ یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحبان کے ساتھ میری میٹنگ تھی ۔ میں جب کراچی یونیورسٹی پہنچا تو وہاں حالات کچھ زیادہ ہی خراب تھے ۔ وائس چانسلر صاحب دفتر میں موجود نہیں تھے کسی متعلقہ شخص نے بتایا کہ میٹنگ کے متعلق انہوں نے انجنئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کو ٹیلی فون کیا تھا ۔ قصہ کوتاہ اس دن ایم کیو ایم کی کے سٹوڈنٹ ونگ نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کے دفتر کو آگ لگا دی تھی ۔

دانیال صاحب اخباری رپورٹوں کو نہیں مانتے ۔ کمال یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے ڈان کی تیس ہزار کاپیاں زبردستی اٹھا کر جلائیں ۔ جنگ اخبار کے دفتر کو آگ لگائی ۔ نوائے وقت والوں کو دھمکیاں دیں ۔ صحافیوں اور ہاکروں کی پٹائی کی ۔ باقی اخباروں کا مجھے علم نہیں کیا ہوا ۔ کیا سب اخبار اور ان کے رپوٹر صرف ایم کیو ایم کے ہی دشمن تھے ؟ آخر کیوں ؟

دانیال صاحب جموں کشمیر میں بھارتی درندگی کے خلاف حق خود ارادی کی تحریک چلانے والوں کو بھی دہشت گرد کہتے ہیں ۔ اگر کسی کے باپ ۔ بھائی یا جوان بیٹے کو اذیّتیں دے کر مار دیا جائے اور کچھ دن یا کچھ ہفتوں کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش ملے ۔ اگر کسی کی ماں ۔ بہن ۔ بیوی یا بیٹی کی آبروریزی کی جائے ۔ اگر کسی کا گھر ۔ کاروبار یا کھیت جلا د ئیے جائیں ۔ تو کیا وہ شخص ظلم کرنے والے درندہ صفت لوگوں سے کہے گا ۔ آؤ ہم اک دوجے کے ہو جائیں اور اکٹھے بیٹھ کے آئس کریم کھائیں ؟

۔ ہماری روانگی اور پاکستان آمد JK15

کرنل عبدامجید کے بھائی جموں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ تھے نومبر 1947 کے وسط میں وہ آئے اور بتایا کہ شیخ محمد عبداللہ کو وزیراعظم بنا دیا گیا ہے اور امید ہے کہ امن ہو جائے گا ۔ لیکن جموں کے تمام مسلمانوں کے مکان لوٹے جاچکے ہیں اور تمام علاقہ ویران پڑا ہے ۔ واپس جا کر انہوں نے کچھ دالیں چاول اور آٹا وغیرہ بھی بھجوا دیا ۔ تین چار ہفتہ بعد ایک جیپ آئی اور ہمارے خاندان کے چھ بچوں ۔ میں میری دو بہنیں ۔ دو کزنز اور پھوپھی ۔ کو جموں کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کے گھر لے گئی ۔ وہاں قیام کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ 6 نومبر کو مسلمانوں کے قافلے کے قتل عام کے بعد خون سے بھری ہوئی بسیں چھاؤنی کے قریب والی نہر میں دھوئی گئی تھیں ۔ اسی وجہ سے ہم نے نہر میں خون اور خون کے لوتھڑے دیکھے تھے ۔ مسلمانوں کے قتل کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور ان کے علم میں وقوعہ کے بعد آیا ۔ وہاں کچھ دن قیام کے بعد ہمیں دوسرے لاوارث اور زخمی عورتوں اور بچوں کے ساتھ مدراسی فوجیوں کی حفاظت میں 18 دسمبر 1947 کو سیالکوٹ پاکستان بھیج دیا گیا ۔

میں لکھ چکا ہوں کہ میرے والدین فلسطین میں تھے اور ہم دادا ۔ دادی اور پھوپھی کے پاس تھے ۔ یہ بھیڑ بھاڑ سے گبھرانے والے لوگ تھے اس لئے انہوں نے پہلے دو دن کے قافلوں میں روانہ ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ جو عزیز و اقارب پہلے دو دن کے قافلوں میں روانہ ہوئے ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا ۔

ہمارے بغیر سات ہفتوں میں ہمارے بزرگوں کی جو ذہنی کیفیت ہوئی اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب ہماری بس سیالکوٹ چھاؤنی آ کر کھڑی ہوئی تو میری بہنوں اور اپنے بچوں کے نام لے کر میری چچی میری بہن سے پوچھتی ہیں بیٹی تم نے ان کو تو نہیں دیکھا ۔ میری بہن نے کہا چچی جان میں ہی ہوں آپ کی بھتیجی اور باقی سب بھی میرے ساتھ ہیں لیکن چچی نے پھر وہی سوال دہرایا ۔ ہم جلدی بس سے اتر کر چچی اور پھوپھی سے لپٹ گئے ۔ پہلے تو وہ دونوں حیران ہوکر بولیں آپ لوگ کون ہیں ؟ پھر ایک ایک کا سر پکڑ کر کچھ دیر چہرے دیکھنے کے بعد ان کی آنکھوں سے آبشاریں پھوٹ پڑیں ۔

پاکستان پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے دادا کا جوان بھتیجا جموں میں گھر کی چھت پر بھارتی فوجی کی گولی سے شہید ہوا ۔ باقی عزیز و اقارب 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے اور آج تک ان کی کوئی خبر نہیں ۔ جب ہمارے بزرگ ابھی پولیس لائینز جموں میں تھے تو 7 نومبر کو فجر کے وقت چند مسلمان جو 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے وہ پولیس لائینز پہنچے اور قتل عام کا حال بتایا ۔ یہ خبر جلد ہی سب تک پہنچ گئی اور ہزاروں لوگ جو بسوں میں سوار ہو چکے تھے نیچے اتر آئے ۔ وہاں مسلم کانفرنس کے ایک لیڈر کیپٹن ریٹائرڈ نصیرالدین موجود تھے انہوں نے وہاں کھڑے سرکاری اہلکاروں کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا پولیس لائینز کی چھت پر مشین گنز فٹ ہیں اور آپ کے فوجی بھی مستعد کھڑے ہیں انہیں حکم دیں کہ فائر کھول دیں اور ہم سب کو یہیں پر ہلاک کر دیں ہمیں بسوں میں بٹھا کے جنگلوں میں لے جا کر قتل کرنے سے بہتر ہے ہمیں یہیں قتل کر دیں اس طرح آپ کو زحمت بھی نہیں ہو گی اور آپ کا پٹرول بھی بچےگا ۔

پھر 7 اور 8 نومبر کو کوئی قافلہ نہ گیا ۔ اسی دوران شیخ عبداللہ جو کانگرس نما نیشنل کانفرنس کا صدر تھا کو وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ اس نے نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کو شہروں سے ہٹا کر ان کی جگہ مدراسی فوجیوں کو لگایا جو مسلمان کے قتل کو ہم وطن کا قتل سمجھتے تھے ۔ میرے دادا ۔ دادی ۔ پھوپھی اور خاندان کے باقی بچے ہوئے تین لوگ 9 نومبر کے قافلہ میں سیالکوٹ چھاؤنی کے پاس پاکستان کی سرحد تک پہنچے ۔ بسوں سے اتر کر پیدل سرحد پار کی اور ضروری کاروائی کے بعد وہ وہاں سے سیالکوٹ شہر چلے گئے ۔

باقی انشاءاللہ آئیندہ

کراچی کے سیاسی روز و شب

میں دانیال صاحب کا مشکور ہوں کہ مجھے دماغ پر زور دینے پر راغب کرتے ہیں جو میری دماغی صحت کے لئے ٹانک ہے ۔ ان کے استفسار کا مندرجہ ذیل جواب لکھا ہے ۔ صلاح عام کے لئے یہاں نقل کر رہا ہوں ۔

میں ایک عام آدمی ہوں نہ وڈیرہ ہوں نہ بیوروکریٹ ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے فضل و کرم سے میں غیرمحسوس طور پر ہر جگہ چلا جاتا ہوں ۔ مجھ پر اللہ کا ایک اور کرم بھی ہے کہ میں جہاں یا جن میں بھی چلا جاؤں عام طور پر لوگ مجھے اپنے میں سے ہی سمجھتے ہیں ۔ جہاں جانا ہو اس کے مطابق لباس پہنتا ہوں ۔ میں نیوڈز کلب کبھی نہیں گیا (مذاق)۔اسی لئے مجھے ذاتی طور پر معلومات حاصل کرنے میں آسانی رہتی ہے ۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ میرے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر ہے ۔ کسی کو منانے کے لئے نہیں لکھا ۔ کھلے دماغ سے تاریخ کا مطالع کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ جب مہاجر مقامی بن چکے تھے تو تفرقہ ڈالنے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ کس نے بنائی ۔ پیپلز پارٹی نے اس کے ساتھ تعاون کیوں کیا تھا جو بعد میں ٹوٹ گیا اور موجودہ حکومت کیوں اسے اوپر لائی ہے ۔ پھر یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ عوام ایم کیو ایم کی بھرپور حمائت کرتے ہیں ۔

میری ایک خبر کی دانیال صاحب تائید کر چکے ہیں کہ ایم کیو ایم نے بے دریغ روپیہ خرچ کیا ہے ۔ ایک سوال تو دانیال صاحب نے خود ہی پوچھ لیا کہ یہ روپیہ کہاں سے آیا ؟ مزید دو سوال ہیں ۔

پہلا ۔ اگر ایم کیو ایم اتنی ہی ہر دل عزیز ہے جتنا دعوی کرتی ہے تو بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
دوسرا ۔ جو روپیہ خرچ کیا گیا ہے کیا ایم کیو ایم اس سے کئی گنا مال حکومت میں آکر نہیں بنائے گی ؟

کراچی یونیورسٹی میں غنڈہ گردی کا آپ نے حوالہ دیا کیا اسلامی جمیت طلباء کے حوالہ سے ۔ میں اتفاق سے ایک دفعہ ایسے وقت این ای ڈی انجنئرنگ یونیورسٹی گیا تھا کہ وہاں فساد برپا تھا ۔ وائس چانسلر صاحب اپنے دفتر کی بجائے کہیں اور تھے ۔ کوئی جاننے والا مل نہیں رہا تھا کہ مجھے ان تک پہنچائے ۔ میں نے وقت کا صحیح استعمال کرنے کے لئے معلومات اکٹھا کرنا شروع کر دیا ۔ ٹکراؤ مہاجر اور جمعیت میں تھا ۔ جو میں نے دیکھا اس کے مطابق جمعیت بے قصور تو نہیں تھی مگر زیادتی مہاجر گروپ کر رہا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مہاجروں کی اولاد تھے ۔ بعد میں یہی میلہ کراچی یونیورسٹی میں بھی دیکھنے کو ملا ۔

میں پندرہ سال پہلے تک یہی سمجھتا تھا کہ اسلامی جمیت طلباء جماعت اسلامی کی شاخ ہے لیکن تحقیق نے میرا موقف بدل دیا ۔ جمعیت جماعت اسلامی کی حمائت یافتہ ہے اس کی شاخ نہیں ۔ موٹی سی مثال ہے ۔ مخدوم جاوید ہاشمی اور احسن اقبال دونوں اپنے اپنے وقت میں اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم تھے اور تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مسلم لیگ میں تھے ۔

دانیل صاحب ناراض تو ہوں گے مگر خود ہی مجھے سچ کہنے پر مجبور کیا ہے ۔ دس سال پہلے سے لے کر تین سال پہلے تک ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے حمائت یافتہ یوتھ فورم آپس میں گھی اور شکر تھے ۔ مطلب ختم ہو گیا تو جماعتیئے ئنڈے بن گئے ۔ اسی کو ہمارے ملک میں سیاست کہا جاتا ہے ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے آمین ۔