۔ جموں میں تعلیم اور سیاست JK10

Flag-2اتفاق کی بات ۔ آج میرا یوم پیدائش ہے اور میری زندگی کے ان واقعات کا بیان ہورہا ہے جنہوں نے دس سال کی عمر میں مجھے نہ صرف تجربہ کار اور پختہ دماغ بنا دیا بلکہ اللہ کی ذات میں میرا یقین اتنا پکا کر دیا کہ پھر الحمدللہ میرے دل میں اللہ کے سوا کبھی کسی کا خوف پیدا نہ ہوا ۔

مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کی غالب اکثریت اسلامیہ سکول یا سرکاری سکولوں میں پڑھتی تھی ۔ تعلیمی معیار سب سکولوں میں بہت اچھا تھا ۔ ہمارے سکول میں با‍قی سکولوں سے بھی بہتر تھا مگر اس میں مخلوط تعلیم تھی اسلئے مسلمان طلباء بالخصوص طالبات کی تعداد کم تھی ۔ ہماری جماعت میں لڑکوں میں ایک سکھ ۔ چھ مسلمان اور سات ہندو تھے اور لڑکیوں میں ایک مسلمان ۔ ایک عیسائی اور چار ہندو تھیں ۔ جب مارچ 1947 میں پاکستان بننے کا فیصلہ ہو گیا تو اگلے دن آدھی چھٹی کے و‍قت میرا ہم جماعت رنبیر سنگھ جو مجھ سے تین سال بڑا تھا نے قائداعظم کو گالی دی ۔ میرے منع کرنے پر چاقو نکال کر میرے پیچھے شانوں کے درمیان رکھ کر زور سے دبانے لگا ۔ اچانک کچھ مسلمان لڑ کے آ گئے اور وہ چلا گیا ۔ وہاں سے میرا کوٹ پھث گیا ۔ دو دن بعد ہمارا خالی پیریڈ تھا اور ہم کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رنبیر سنگھ کے ایک دوست کیرتی کمار نے مسلمانوں کو گالیاں دیں ۔ میں نے منع کیا تو کیرتی نے کہا ہم تم مسلوں کو ختم کر دیں گے اور مجھ پر پل پڑا ۔ ہم گتھم گتھا ہو گئے میرا ایک مکا کیرتی کی ناک کو لگا اور خون بہنے لگا اس پر لڑکوں نے ہمیں علیحدہ کر دیا ۔

صوبہ کشمیر میں آبادی کا 97 فیصد مسلمان تھے ۔ صوبہ جموں کے تین اضلاع جموں ۔ کٹھوعہ اور اودھم پور میں غیر مسلم مسلمانوں سے زیادہ تھے اس کی وجہ وہ پنڈت جو جموں کے گورنر جگن ناتھ نے دوسرے علاقوں سے لا کر بسائے اور وہ ہندو جو مہاراجہ ہری سنگھ کی پالیسی کے تحت ہندوستان سے آ کر آباد ہوئے ۔ صوبہ جموں کے باقی اضلاع میں مسلمان 60 سے 70 فیصد تھے جبکہ اوسط 64 فیصد مسلمان تھے ۔کلی طور پر صوبہ جموں میں مسلمانوں کی تعداد 50 فیصد سے خاصی زیادہ تھی ۔ پورے جموں کشمیر کی بنیاد پر مسلمانوں کی آبادی 80 فیصد سے زائد تھی ۔

جموں میں تعلیم سو فیصد تھی اس لئے جموں شہر سیاست کا گڑھ تھا ۔ 1947 کی ابتداء سے ہی جموں کے مسلمانوں کے جلسے جلوس آئے دن کا معمول بن گیا تھا ۔ ایک دفعہ جلوس میں آٹھ سال اور اس سے بڑے بچوں کو بھی شامل کیا گیا جس میں میں بھی تھا ۔ ان جلوسوں میں یہ نعرے لگائے جاتے ۔ لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان ۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ ۔

What do you want “Pakistan”

مسلمانوں کو یقین تھا کہ جموں کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو گا ایک تو وہاں مسلمان کافی غالب اکثریت میں تھے ۔ دوسرے جمموں کشمیر کی سرحدوں کے ساتھ سب اضلاع مسلم اکثریت کے علاقے تھے ۔ چنانچہ 14 آگست 1947 کو پاکستان کا یوم آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا گیا ۔ میری خواہش پر دادا جان نے پاکستان کا ایک بڑا سا جھنڈا ہمارے دومنزلہ مکان کی چھت پر 32 فٹ لمبے پائپ پر لگایا ۔

۔باقی انشاءاللہ آئیندہ

Advertisements

6 thoughts on “۔ جموں میں تعلیم اور سیاست JK10

  1. Dang! I am late.
    happy Birthday sir.
    There could not have been a better run up to the yaum e azadi on blogosphere than your memoirs of 1947 in JK.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s