نہرمیں خون وہ بولاسب مرگئےاور بےہوش ہوگیا JK13

کھانا پکانے کے لئے میں اپنے کزن کے ساتھ باہر سے سوکھی تھور جسے انگریزی میں کیکٹس کہتے ہیں توڑ کے لاتا تھا جس سے میری ہتھیلیاں کانٹوں سے چھلنی ہوگئیں تھیں ۔ جب تک میں واپس نہ آتا میری بہنیں میری خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگتی رہتیں ۔ ہمارے پاس کھانے کا سامان تھوڑا تھا اور مزید لانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لئے ہم تھوڑا ہی کھاتے ۔ جب زیتون کا تیل ختم ہو گیا تو ابلے پھیکے چاولوں پر بغیر پیاز لہسن نمک مرچ مصالحہ صرف ابلی ہوئی دال ڈال کر کھا لیتے ۔

ہمارے ساتھ اس کوٹھی میں کوئی بڑا مرد نہیں رہ رہا تھا ۔ ہم کل 5 لڑکے تھے ۔ سب سے بڑا 18 سال کا اور سب سے چھوٹا میں 10 سال کا ۔ نلکے میں پانی بہت کم آتا تھا اس لئے 6 نومبر 1947 بعد دوپہر ہم لڑکے قریبی نہر پر نہانے گئے ۔ ہم نے دیکھا کہ نہر کے پانی میں خون اور خون کے لوتھڑے بہتے جا رہے ہیں ۔ ہم ڈر گئے اور الٹے پاؤں بھاگے ۔ ہمارے واپس پہنچنے کے کچھ دیر بعد کسی نے بڑے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ خاتون خانہ نے سب خواتین اور لڑکیوں کو اندر بھیج دیا پھر ایک ڈنڈا انہوں نے اٹھایا اور ہم نے ان کی تقلید کی ۔ دوبارہ زور سے دستک ہوئی ۔ خاتون خانہ نے مجھے کنڈی کھولنے کا اشارہ کیا ۔ جونہی میں نے کنڈی کھولی ایک 6 فٹ کا نوجوان دروازے کو دھکا دیکر اندر داخل ہوا اور سب مر گئے کہہ کر اوندھے منہ گرا اور بیہوش ہو گیا ۔ سب ششدر رہ گئے ۔ اسے سیدھا کیا تو لڑکوں میں سے کوئی چیخا بھائی جان کیا ہوا ؟ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔ وہ ہوش میں آ کر پھر چیخا سب مر گئے اور دوبارہ بیہوش ہو گیا ۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمارے عزیز و اقارب سب مار دیئے گئے ہیں سو سب زار و قطار رونے لگ گئے ۔ پھر اسے اٹھا کر اندر لے گئے ۔ وہ لڑکا خاتون خانہ کے جیٹھ اور ہمارے ساتھی لڑکوں کے تایا کا بیٹا تھا ۔

ہوش میں آنے پر اس نے بتایا کہ ہمارے جموں سے نکلنے کے بعد گولیاں چلتی رہیں اور جو کوئی بھی چھت پر گیا کم ہی سلامت واپس آیا ۔ جموں کے نواحی ہندو اکثریتی علاقوں سے زخمی اور بے خانماں مسلمان جموں پہنچ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہندوؤں سکھوں اور بھارتی فوج کے ہاتھوں بیہیمانہ قتل عام کی خبریں سنا رہے تھے ۔ جموں کے دو اطراف درجن سے زیادہ گاؤں جلتے رات کو نظر آتے تھے ۔

نیشنل کانفرنس کے کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کی طرف سے 4 نومبر کو سارے شہر میں اعلان کیا گیا کہ جس نے پاکستان جانا ہے وہ پولیس لائنز پہنچ جائے وہاں بسیں پاکستان جانے کے لئے تیار کھڑی ہیں ۔ 24 اکتوبر کو مسلمانوں کی طرف سے جنگ آزادی کے شروع ہونے کی خبر بھی پھیل چکی تھی ۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ یہ بندوبست مسلمانوں کی حفاظت کے لئے ہے ۔ دوسرے مسلمانوں کے پاس راشن تقریبا ختم تھا ۔ سو جموں شہر کے مسلمان پولیس لائنز پہنچنا شروع ہو گئے ۔

بسوں کا پہلا قافلہ 5 نومبر کو روانہ ہوا اور دوسرا 6 نومبر کو صبح سویرے ۔ وہ اور اس کے گھر والے 6 نومبر کے قافلہ میں روانہ ہوئے ۔ جموں چھاؤنی سے آگے جنگل میں نہر کے قریب بسیں رک گئیں وہاں دونوں طرف بھارتی فوجی بندوقیں اور مشین گنیں تانے کھڑے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد جے ہند اور ست سری اکال کے نعرے بلند ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں مسلحہ ہندوؤں اور سکھوں نے بسوں پر دھاوہ بول دیا ۔ جن مسلمانوں کو بسوں سے نکلنے کا موقع مل گیا وہ ادھر ادھر بھاگے ان میں سے کئی بھارتی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور بہت کم زخمی یا صحیح حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو ئے ۔ وہ جوان اور اس کے گھر والے بس کے دروازے کے پاس بیٹھے تھے اس لئے بس سے جلدی نکل کر بھاگے کچھ نیزوں اور خنجروں کا نشانہ بنے اور کچھ گولیوں کا ۔ اس جوان نے نہر میں چھلانگ لگائی اور پانی کے نیچے تیرتا ہوا جتنی دور جا سکتا تھا گیا پھر باہر نکل کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ جموں چھاؤنی سے دور بھا گ رہا تھا ۔ وہ الٹے پاؤں واپس بھاگنا شروع ہو گیا اور جس جگہ حملہ ہوا تھا وہاں پہنچ گیا ۔ حملہ آور جا چکے تھے ۔ اس نے اپنے گھر والوں کو ڈھونڈنا شروع کیا ۔ مرد عورت بوڑھوں سے لے کر شیرخوار بچوں تک سب کی ہزاروں لاشیں ہر طرف بکھری پڑی تھیں ۔ بسیں خون سے لت پت تھیں ان کے اندر بھی لاشیں تھیں ۔ اسے اپنے والدین کی خون آلود لاشیں ملیں ۔ اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ گر گیا ۔ ہوش آیا تو اپنے باقی عزیزوں کی لاشیں ڈھونڈنے لگا اتنے میں دور سے نعروں کی آوازیں سنائی دیں اور اس نے پھر بھاگنا شروع کر دیا ۔ نہر کے کنارے بھاگتا ہوا وہ ہمارے پاس پہنچ گیا

۔باقی انشاءاللہ آئیندہ

8 thoughts on “نہرمیں خون وہ بولاسب مرگئےاور بےہوش ہوگیا JK13

  1. General relies on blogs to swap info and ideas
    Picture the modern-day blogger and the ramrod straight, spit-and-polish image of a four-star Marine general isn’t what comes to mind.
    Very different blog!! I’ll be back from time to time.

    I have a free test drives Site. It’s all about free test drives related stuff.

    Come and check us out if you get time.

  2. Food, freaks, and Ferraris: What’s on tonight
    ESPN has the Chicago Cubs at The Houston Astros at 7pm. NBC is showing four episodes of The Office … FX has a new episode of Over There at 10, titled I Want My Toilets.
    Hey, you have a great blog here! I’m definitely going to bookmark you!
    I have a credit site/blog. It pretty much covers credit related stuff.
    Come and check it out if you get time🙂

  3. No More Allowance
    Jessica M. Scott Richmond.comWednesday, August 17, 2005Mayor L. Douglas Wilder is keeping a fixed eye on the Virginia Performing Arts Foundation.
    Hey, you have a great blog here! I’m definitely going to bookmark you!

    I have a relocating to atlanta site. It pretty much covers relocating to atlanta related stuff.

    Come and check it out if you get time🙂

  4. اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں
    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتی
    يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں
    غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو
    نشہ برپا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں
    تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا
    دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں
    آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر
    کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں
    اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز
    جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں مليں

    احمدفراز

  5. janab sher-o-shairi sae to mujha koi khass dil chaspi nehi ha…
    mager faraz ka yeh sheer jab sae mana pheli dafa suna ha tab sae mujha bohat pasand ha.
    mujha jhan tak yaad perta ha yeh bandladesh ka bara main hain…
    mager yeh kai jagha fit ata ha

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s