کراچی کے سیاسی روز و شب

میں دانیال صاحب کا مشکور ہوں کہ مجھے دماغ پر زور دینے پر راغب کرتے ہیں جو میری دماغی صحت کے لئے ٹانک ہے ۔ ان کے استفسار کا مندرجہ ذیل جواب لکھا ہے ۔ صلاح عام کے لئے یہاں نقل کر رہا ہوں ۔

میں ایک عام آدمی ہوں نہ وڈیرہ ہوں نہ بیوروکریٹ ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے فضل و کرم سے میں غیرمحسوس طور پر ہر جگہ چلا جاتا ہوں ۔ مجھ پر اللہ کا ایک اور کرم بھی ہے کہ میں جہاں یا جن میں بھی چلا جاؤں عام طور پر لوگ مجھے اپنے میں سے ہی سمجھتے ہیں ۔ جہاں جانا ہو اس کے مطابق لباس پہنتا ہوں ۔ میں نیوڈز کلب کبھی نہیں گیا (مذاق)۔اسی لئے مجھے ذاتی طور پر معلومات حاصل کرنے میں آسانی رہتی ہے ۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ میرے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر ہے ۔ کسی کو منانے کے لئے نہیں لکھا ۔ کھلے دماغ سے تاریخ کا مطالع کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ جب مہاجر مقامی بن چکے تھے تو تفرقہ ڈالنے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ کس نے بنائی ۔ پیپلز پارٹی نے اس کے ساتھ تعاون کیوں کیا تھا جو بعد میں ٹوٹ گیا اور موجودہ حکومت کیوں اسے اوپر لائی ہے ۔ پھر یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ عوام ایم کیو ایم کی بھرپور حمائت کرتے ہیں ۔

میری ایک خبر کی دانیال صاحب تائید کر چکے ہیں کہ ایم کیو ایم نے بے دریغ روپیہ خرچ کیا ہے ۔ ایک سوال تو دانیال صاحب نے خود ہی پوچھ لیا کہ یہ روپیہ کہاں سے آیا ؟ مزید دو سوال ہیں ۔

پہلا ۔ اگر ایم کیو ایم اتنی ہی ہر دل عزیز ہے جتنا دعوی کرتی ہے تو بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
دوسرا ۔ جو روپیہ خرچ کیا گیا ہے کیا ایم کیو ایم اس سے کئی گنا مال حکومت میں آکر نہیں بنائے گی ؟

کراچی یونیورسٹی میں غنڈہ گردی کا آپ نے حوالہ دیا کیا اسلامی جمیت طلباء کے حوالہ سے ۔ میں اتفاق سے ایک دفعہ ایسے وقت این ای ڈی انجنئرنگ یونیورسٹی گیا تھا کہ وہاں فساد برپا تھا ۔ وائس چانسلر صاحب اپنے دفتر کی بجائے کہیں اور تھے ۔ کوئی جاننے والا مل نہیں رہا تھا کہ مجھے ان تک پہنچائے ۔ میں نے وقت کا صحیح استعمال کرنے کے لئے معلومات اکٹھا کرنا شروع کر دیا ۔ ٹکراؤ مہاجر اور جمعیت میں تھا ۔ جو میں نے دیکھا اس کے مطابق جمعیت بے قصور تو نہیں تھی مگر زیادتی مہاجر گروپ کر رہا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مہاجروں کی اولاد تھے ۔ بعد میں یہی میلہ کراچی یونیورسٹی میں بھی دیکھنے کو ملا ۔

میں پندرہ سال پہلے تک یہی سمجھتا تھا کہ اسلامی جمیت طلباء جماعت اسلامی کی شاخ ہے لیکن تحقیق نے میرا موقف بدل دیا ۔ جمعیت جماعت اسلامی کی حمائت یافتہ ہے اس کی شاخ نہیں ۔ موٹی سی مثال ہے ۔ مخدوم جاوید ہاشمی اور احسن اقبال دونوں اپنے اپنے وقت میں اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم تھے اور تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مسلم لیگ میں تھے ۔

دانیل صاحب ناراض تو ہوں گے مگر خود ہی مجھے سچ کہنے پر مجبور کیا ہے ۔ دس سال پہلے سے لے کر تین سال پہلے تک ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے حمائت یافتہ یوتھ فورم آپس میں گھی اور شکر تھے ۔ مطلب ختم ہو گیا تو جماعتیئے ئنڈے بن گئے ۔ اسی کو ہمارے ملک میں سیاست کہا جاتا ہے ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے آمین ۔

Advertisements

2 thoughts on “کراچی کے سیاسی روز و شب

  1. I have just gone through you article in which u said like you are call you self “sindhi” and dond mind if people call you “mahajer” wasay shram ka muqam hai ..you should be proud to be a MUSLIM first (i think after that you dont need any thing ..coz if you do so God will definitly make other people to recognize your true identity) then Pakistani snd after that nothing..
    Allah ka suker sirf kataboon aur articles main nahee istimal kerna chiya..sham kaa muqam hai janab kay liya

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s