Heads of Pakistanis are down due to shame

In an interview to Washigton Post, Pervez Musharraf said, “You must understand the environment in Pakistan. This has become a moneymaking concern. A lot of people say if you want to go abroad and get a visa for Canada or citizenship and be a millionaire, get yourself raped.”

Did Pervez Musharraf become General by getting himself raped ?

What peoples of other countries will think of the nation whose president has such a dirty mind ?

Advertisements

مزاح کی حس

قدیر احمد رانا صاحب فرماتے ہیں ۔
یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ “آپ بھی” حسِ مزاح رکھتے ہیں ۔ ورنہ تو آپ کی خشک و غمگین تحریریں پڑھ کر بالکل یہ گمان نہیں ہوتا کہ چمنستانِ اجمل میں کوئی کلی بھی کھلتی ہوگی آپ نے کہا کہ آپ کی حسِ مزاح قومی بے غیرتی کی وجہ سے خوابیدہ ہو چکی ہے ۔ کچھ لوگ کسی بات کو سنجیدگی سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگ مزاحیہ پیرائے میں اس کے لتے لیتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ دوسرا کام ٹھیک ہے ۔ بجائے اس کے کہ آپ غلط چیزوں کو دل پر لے لیں اور غمزدہ ہو کر دوسروں کو بھی غمزدہ کریں ، میری ناقص رائے میں ہونا یوں چاہیے کہ اگر آپ کو کوئی چیز بری لگی ہے تو آپ ضرور اس کی خبر لیں لیکن اسے اس انداز میں بیان کریں کہ قاری پر خوشگوار تاثر قائم ہو ۔ اکثر قارئین سنجیدہ تحریروں سے گریز کرتے ہیں ، اگر اسی بات کو آپ مزاح کا پہلو دے دیں تو قاری آپ کی تحریر سے لطف اندوز بھی ہوگا اور اس پر آپ کی باتوں کا اثر بھی زیادہ ہوگا

رانا صاحب سے گذارش ہے کہ میں نے ملکی حالات لکھا تھا قومی بے غیرتی نہیں ۔ میرے سر پر پہلے ہی بال تھوڑے ہیں کچھ خیال کریں ۔ رہا میرا چمن تو جناب یہاں ماشاء اللہ کلیوں کے علاوہ پھول بھی کھلتے ہیں ۔ میں نے سنا تھا کہ رلانے والی فلمیں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں مگر آپ نے اس کا الٹ بتایا ہے ۔ خیر میں فلموں کی پیروی نہیں کر رہا مجھے تو فلم دیکھے بھی پنتیس سال ہو گئے ہیں ۔

ہر بات میں مزاح پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔ کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جنہیں سنجیدگی سے ہی بیان کیا جاتا ہے ۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ اکثر قارئین سنجیدہ تحریروں سے گریز کرتے ہیں ۔ میرے تجربہ کے مطابق ہم لوگ صرف ہلّہ گلہ چاہتے ہیں زندگی کے سنجیدہ حقائق کو اپنانا نہیں چاہتے اسی لئے انحطاط پذیر ہیں ۔میری سنجیدہ تحریروں وجہ سے میں جتنی محنت سے مضمون تیار کرتا ہوں میرے قارئین اس لحاظ سے بہت ہی کم ہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے مجھے قارئین اور سامعین اکٹھے کرنے کا فن بھی سکھایا ہے ۔ اللہ کے فضل سے جب بھی تقریر کے لئے کھڑا ہو جاؤں ہال بار بار تالیوں سے گونجتا ہے اور اگر مزاح شروع کروں تو سامعین لو پوٹ ہو جاتے ہیں ۔ لوگ مجھ سے سنجیدگی کے ساتھ ساتھ مزاح سے بھرے استقبالیے اور الوداعیے بھی لکھواتے رہتے ہیں ۔

بات یہ ہے کہ جب اتنے ذہین لڑکیاں اور لڑکے خوش کن تحریروں سے چمن سجا رہے ہیں تو ایک سنجیدہ تحریر وقت کی ضرورت بن جاتی ہے ۔ خاص کر ایسے حقائق جن سے ہماری حکومت اور تعلیمی ادارے چشم پوشی برت رہے ہیں انہیں نوجوان نسل تک پہنچانا فرض منصبی ہے ۔

مجھے دوسروں کی خدمت میں بہت لطف آتا ہے اور ہنسانا ایک عمدہ خدمت ہے ۔ جو لوگ مجھے سالہا سال سے جانتے ہیں وہ مجھے دیکھتے ہی یہ کہہ کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اوہ اجمل تو ہنسا ہنسا کر بے حال کر دیتا ہے ۔ تو پھر میں نے مزاح اور مزاح نگاری کیوں چھوڑی ۔ اس کی وجہ زمانے کا مزاج ہے جو کہ بدل گیا ہے ۔ آجکل مزاح کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آتا ۔ مذاق کرنے کے بعد بتانا پڑتا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں ورنہ تعلقات بگڑنے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ آجکل کا مذاق بے ڈنگ الفاظ ۔ ٹوٹے فقرے اور بے ہنگم حرکتیں ہیں جو لغت کے مطابق مزاح نہیں کہلاتا ۔

آج کل کے ترقی یافتہ دور میں پڑھے لکھے لوگوں کے مزاج کا ایک نمونہ یہ ہے کہ میں نے اپنے دفتر میں کمپیوٹرگرافکس میں پرنٹ کر کے آویزاں کر دیا ۔

Test of fairness is, how fair you are to those who are not.

کئی آفیسران نے میرے ساتھ اختلاف کیا ۔ دو نے تو باقاعدہ جھگڑا کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی میرے ساتھ زیادتی کرے اور میں اس کے ساتھ فیئر رہوں ۔ یہ ممکن ہی نہیں ۔ ان میں سے ایک بڑی فیسوں والے ایک مشہور انگریزی سکول کا پڑھا ہوا تھا ۔

اب کوئی مجھے سمجھائے کہ ایسے معاشرے میں مزاح نگاری کیسے ہو سکتی ہے ۔

جموں کشمیر کے جوانوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے ۔JK 18

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے تیسری سیاسی تحریک جو 1931 عیسوی میں شروع ہوئی تھی وہ آج تک مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری ہے ۔ دوسری مسلح جدوجہد 1989 میں شروع ہوئی اور پاکستان کی حکومت کی امداد کے بغیر آج تک جاری ہے ۔ اس دوسری مسلح تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کے ایماء پر شروع کی گئی ۔ حقیقت کچھ اس طرح ہے ۔

ایک طرف بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور دوسری طرف سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی ۔ بےنظیر بھٹو نے 1988 میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت کے پردھان منتری راجیو گاندھی سے دوستی شروع کی اور جہاں کہیں لکھا تھا کشمیر بنے گا پاکستان وہ مٹوا دیا یہاں تک کہ راولپنڈی میں کشمیر ہاؤس کے سامنے سے وہ بورڈ بھی اتار لیا گیا جس پر کشمیر ہاؤس لکھا تھا اور اس سے بھی بڑھ کر خیر سگالی کرتے ہوئے اں راستوں کی نشان دہی بھارت کو کر دی جن سے جموں کشمیر کے لوگ سرحد کے آر پار جاتے تھے ۔ مقبوضہ علاقہ کے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کے لئے رضاکار آزاد جموں کشمیر سے کپڑے ۔ جوتے ۔ کمبل وغیرہ لے کر انہی راستوں سے جاتے تھے ۔ بھارتی فوج نے ان راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ۔ کئی سو کشمیری مارے گئے اور بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند ہو گئی ۔

بوڑھے جوانوں کو ٹھنڈا رکھتے تھے ۔ جب بوڑھوں کے پاس جوانوں کو دلاسہ دینے کے لئے کچھ نہ رہا تو جوانوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی ٹھانی ۔ ابتداء یوں ہوئی کہ بھارتی فوجیوں نے ایک گاؤں کو محاصرہ میں لے کر مردوں پر تشدّد کیا اور کچھ خواتین کی آبروریزی کی ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا تھا مگر اس دفعہ ایک تو جوان بدلہ لینے کا فیصلہ کر چکے تھے اور دوسرے بھارتی فوجی اتنے دلیر ہو چکے تھے کہ انہوں نے خواتین کی بےحرمتی ان کےگاؤں والوں کے سامنے کی ۔ اس گاؤں کے جوانوں نے اگلے ہی روز بھارتی فوج کی ایک کانوائے پر اچانک حملہ کیا ۔ بھارتی فوجی کسی حملے کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے مسلمان نوجوانوں کا یہ حملہ کامیاب رہا اور کافی اسلحہ ان کے ہاتھ آیا ۔ پھر دوسرے دیہات میں بھی جوابی کاروائیاں شروع ہو گئیں اور ہوتے ہوتے آزادی کی یہ مسلحہ تحریک پورے مقبوضہ جموں کشمیر میں پھیل گئی ۔


اس تحریک آزادی اور تحریک آزادی 1947 میں فرق

اس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی جبکہ 1947 والی تحریک کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی ۔

یہ ہر علاقے کی اپنی انفرادی کاروائی ہے جبکہ وہ اجتمائی تحریک تھی ۔

اسے شروع کرنے والے تربیت یافتہ نہیں جبکہ 1947 والی تحریک میں تربیت یافتہ لوگ شامل تھے ۔

تحریک آزادی 1947 کو پاکستان کے لوگوں کی طرف سے افرادی قوّت اور مالی امداد حاصل تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ تحریک کو انفرادی طور پر مالی امداد 2001 تک ملتی رہی پھر حکومت نے نہ صرف امداد بند کرا دی بلکہ جن رفاعی اداروں کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ مالی امداد کا بندوبست کرتے رہے ہیں ان پر کڑی پابندی لگا دی ۔ اس سلسلہ میں موجودہ حکومت نے کافی بے گناہ لوگوں کے خلاف تھانوں میں مختلف نوعیت کی ایف آئی آر درج کی ہوئی ہیں ۔ افرادی امداد جو تھوڑی سی انفرادی طور پر تھی پچھلے چار سال سے بالکل بند ہے ۔


میرے پاس تازہ اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ صورت حال 1989 سے لے کر 2004 تک مندرجہ ذیل ہے

ایک لاکھ کے قریب مکانات جلا دیئے گئے

ایک لاکھ سے زائد مسلمان شہید کئے گئے

102403 مسلمانوں کوگرفتار کر کے ٹارچر کیا گیا

25275 خواتین بیوہ ہوئیں

103620 بچے یتیم ہوئے

18997 خواتین کی آبروریزی کی گئی

پاکستان کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں بھارتی فوج کا ظلم و ستم بہت کامیاب جا رہا ہے ۔ وہ روزانہ دس بارہ جوانوں کو مار دیتے ہیں اور مکانوں کو آگ لگا کر درجنوں بےگناہ مسلمانوں کو بے گھر کر دیتے ہیں ۔ اور مسلمان خواتین کی بے حرمتی بھی جاری ہے ۔

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان اور انسانیت کا علمبردار کہنے والے ۔ جموں کشمیر کے ان ستم رسیدہ لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ۔ ان نام نہاد روشن خیال اور امن پسند لوگوں سے کوئی پوچھے کہ اگر ان کے بھائی یا جوان بیٹے کو اذیّتیں دے کر مار دیا جائے اور کچھ دن یا کچھ ہفتوں کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش ملے ۔ اگر ان کی ماں ۔ بہن ۔ بیوی ۔ بیٹی یا بہو کی آبروریزی کی جائے ۔ اگر ان کا گھر ۔ کاروبار یا کھیت جلا د ئیے جائیں ۔ تو وہ کتنے زیادہ روشن خیال اور کتنے زیادہ امن پسند ہو جائیں گے ؟

Hypocrisy Thy Name completes it’s One Year

Hypocrisy Thy Name has today completed its one year with 3,184 visitors and 4,755 page views that make an average of 8.72 visitors per day and 13.03 page views per day which is a very small number as compare to other bloggers.

I started this blog considering for several months whether blog on such a dry and pinching subject will be able to survive given the prevailing environment in the world. During the 1st week, It had average per day 9.2 visitors and 19 page views which came down to 4 visitors and 5 page views in the 5th week. When I started taking up practical side of Hypocrisy, by the grace of God, interest of the readers increased and made this blog a success. On demand from few bloggers, especially Qadeer Ahmed Rana, I started writing in Urdu.

I offer my profound gratitude to the readers for it’s success.

خود میاں فصیحت دیگراں را نصحیت

It is an unfortunate fact of history that the third most sacred place of Islam, the Alaqsa Mosque, and the fourth, the Qibla-e-awal are under the occupation of Israel.

ترجمہ ۔ یہ ایک تاریخی بد قسمتی ہے کہ اسلام کی تیسری سب سے متبرک جگہ یعنی مسجد اقصی اور چوتھی یعنی قبلہء اول اسراءیل کے قبضہ میں ہیں ۔

مندرجہ بالا فقرہ ریٹائرڈ میجر گلزار وزیر کے 7 ستمبر کو دی نیوز میں چھپنے والے خط سے ہے جس کا باقی حصہ نیجے درج ہے ۔ دی نیوز میں ان کے بہت خط چھپتے رہتے ہیں ۔ یہ حضرت اتنے باعلم ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مسجد اقصی ہی قبلہء اول ہے ۔ اور چلے ہیں دوسروں کو نصیحت کرنے ۔

Besides, there are many other places which are important from the Islamic point of view, located in that country. I ask religious zealots like Qazi Hussain Ahmed, who is busy spitting fire against recognising Israel, would he not like to undertake a pilgrimage to these holy sites, at least once during his life time? This is impossible unless there are diplomatic relations between the two countries