موجودہ صورت حال

سبحان اللہ و الحمد للہ و اللہ اکبر ۔ شکر ہے اللہ کا جو کل کائنات کا خالق و مالک ہے اور اس کا نظام چلاتا ہے کہ متاءثرہ علاقوں میں امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے ۔ بالا کوٹ میں پہلے دن یعنی ہفتہ کے دن قریبی علاقہ کے لوگ میلوں (کم از کم سات میل) پیدل چل کر پہنچے لیکن ہاتھوں سے ملبہ اٹھانے کے علاوہ وہ کچھ کر نہ سکے ۔ تمام سڑکیں مٹی کے تودے اور چٹانیں گرنے سے بند ہو چکی تھیں کئی جگہ سے سڑکیں ٹوٹ گئی تھیں اور ایک آدھ پل بھی ٹوٹ گیا تھا ۔ اتوار کو دوپہر تک اسلام آباد سے مظفرآباد اور گڑھی حبیب اللہ کا راستہ کھل گیا مگر رات گئے تک ملبہ ہٹانے والی کوئی مشینری نہیں پہنچی تھی ۔ ابھی سڑک کے کچھ حصے تنگ اور عارضی ہیں ۔ باہر سے آنے والوں میں دوسرے دن یعنی اتوار کو ہلال احمر پاکستان اور جامع فریدیہ سیکٹر ای ۔ 7 ۔ اسلام آباد اور کچھ دوسرے رفاہی اداروں کی ٹیمیں متاءثرہ علاقوں میں پہنچ گیئں تھیں ۔

جامعہ فریدیہ کے نمائندہ نے بالا کوٹ سے اتوار بعد دوپہر ٹیلیفون پر بتایا کہ وہاں اس وقت تک پانچ سے دس منٹ کے وقفہ سے زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں ۔ جو لوگ بچ گئے ہیں وہ انتہائی پریشان حال ہیں ۔ ہفتہ کی سحری کے بعد انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے اور کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں ۔ اپنی بھوک اور پیاس کو بھلا کر یہ لوگ اپنے عزیزوں ۔ دوستوں اور محلہ داروں کی جانیں بچانے کے خیال سے اپنے ہاتھوں سے ملبہ اٹھاتے رہے جس سےوہ بے حال ہو گئے ۔ جو لوگ زخمی ہیں ان کے لئے صحیح طبّی امداد کے ذرائع موجود نہیں ۔ ہفتہ کو بعد دوپہر سے شام تک تیز بارش ہوتی رہی اور بہت سردی ہو گئی ۔ سردی میں بھیگنے کی وجہ سے کئی لوگ بیمار پڑ گئے ۔ سب کچھ تباہ ہو جانے کے باعث وہاں کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔ نمائندہ نے مزید بتایا کہ ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی ۔ کوئی مرد بچ گیا ہے اور بیوی بچے ملبہ کے نیچے دبے ہیں ۔کوئی خاتون بچ گئی ہے تو باقی اہل خانہ کا کچھ پتہ نہیں ۔ کوئی بچہ یا بچی رو رو کر منتیں کر رہے ہیں کہ میرے ماں باپ کو نکال دو ۔

آزاد جموں کشمیر کے تین اضلاع مظفرآباد ۔ راولاکوٹ اور باغ میں حالت اور بھی زیادہ خراب ہے ۔ وہاں 17000 سے زائد افراد ہلاک ہوۓ ہیں جن میں 11000 صرف مظفرآباد میں ہلاک ہوۓ ہیں ۔ آزاد جموں کشمیر اور صوبہ سرحد میں کل مرنے والوں کا تخمینہ 25 سے 30 ہزار ہے اور زخمی 40 سے 50 ہزار تک ۔ ابھی بہت سے علاقوں تک کوئی نہیں پہنچ سکا اس لئے یہ تعداد بڑھ سکتی ہے ۔

اسلام آباد میں نجی اداروں اور ہمدرد عوام کی بر وقت امداد کے باعث کام تسلی بخش ہوتا رہا ۔کل دوپہر برطانیہ کی ٹیم پہنچ گئی اور آلات کے ذریعہ انہوں نے 6 لوگ زندہ ڈیٹیکٹ کر کے نکلوا لئے ۔ اس سے پہلے کوآرڈینیشن نہ ہونے کی وجہ سے وقت اور محنت ضائع بھی ہوۓ ۔ کوآرڈینیشن مہیا کرنا حکومت کے کارندوں کا کام ہوتا ہے جو ہمارے ملک میں صرف تقریریں کرنا اور انٹ شنٹ بیان دینا جانتے ہیں ۔ ہمارے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے زلزلہ کے کچھ گھنٹے بعد بیان دیا تھا “اللہ کا شکر ہے کوئی نقصان نہیں ہوا صرف ایک سکول کی دیوار گرنے سے 6 بچیاں زخمی ہوئی ہیں” ۔ اسلام آباد مرگلہ ٹاورز پر جب امدادی کام ہو رہا تھا تو سینکڑوں لوگ گرد جمع ہو کر مختلف قسم کی بحثوں اور تنقید میں اتنے زور شور سے حصہ لے رہے تھے کہ انہیں ایمبولنسوں کے ہارن سنائی نہیں دیتے تھے جس کی وجہ سے زخمیوں کو لےجانا مشکل ہو گیا تھا ۔ دوسرے تماش بین اتنے زیادہ اور کام کرنے والے رضاکاروں کے گرد گھیرا اتنا تنگ ہو گیا کہ امدادی کام میں رکاوٹ پڑنے لگی ۔ پھر رضاکاروں اور پولیس نے کافی محنت اور منت سماجت سے ان کو ہٹایا اور ایف 10 کی طرف جانے والے تمام راستے سواروں اور پیدل سب لوگوں کے لئے بند کر دیئے ۔ اللہ ہماری قوم کو سیدھی راہ دکھاۓ آمین ۔

اسلام آباد میں ہلال احمر کے ہمدرد بالخصوص خواتین کافی متحرک ہیں ۔ اسلام آباد کے مقامی اداروں میں سے سب سے زیادہ متحرک جامعہ فریدہ کے اساتذہ اور طلباء ہیں ۔ یہ سب خاموشی حلم اور سرعت کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔ فنڈز کی کمی شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ اتفاق سے جامعہ فریدیہ میں کچھ لوگ متاءثرہ علاقوں سے واقف ہیں اس لئے ہر قافلے کے ساتھ ایک علاقہ کا واقف بھیجا جا رہا ہے ۔ جامع فریدیہ کے بھیجے ہوۓ دو ٹرک خیمے اور خوراک لے کر متاءثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں اور تیسرا ٹرک 400 تھیلے آٹا لے کر آج صبح روانہ ہو چکا ہے ۔ انشاء اللہ آج شام رضائیاں بھیجی جائیں گی ۔ اس کے لئے صاحب دل خواتین و حضرات سے درخواست کی گئی ہے کہ آج ظہر تک جتنی رقوم ہو سکیں جمع کرا کر اس کار خیر اور ثواب میں حصہ لیں ۔

میری آنکھیں فرط جذبات سے اشک آلود ہو گيئں جب میں نماز تراویح ادا کر کے رات دس بجے گھر لوٹا تو ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا آیا اور سلام کے بعد مجھے ایک ہزار روپیہ دے کر کہنے لگا “پتہ چلا ہے کہ آپ متاءثرین زلزلہ کے لئے امداد اکٹھی کر رہے ہیں میں نے اور میری بہن نے جیب خرچ جمع کیا ہوا تھا یہ آپ متاءثرین کی لئے استعمال کریں” پھر آج سحری کے وقت ٹیلیفون آیا ایک صاحب ٹرانٹو کینڈا سے بول رہے تھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے متاءثرین کی امداد کے لئے رقم ریڈ کراس کو دی ہے مگر ان کے دل کو تسلّی نہیں ہوئی ۔ چاہتے ہیں کہ کسی ہموطن کے ذریعہ امداد کی جاۓ اور ان کا پاکستان میں کوئی رشتہ دار نہیں ۔ انہوں نے میرا ٹیلیفون نمبر میرے بلاگ سے لیا ۔ واہ ۔ وطن کی محبت بھی کیا چیز ہے ۔ سبحان اللہ ۔

میں ایک بار پھر بہت عاجزی سے درخواست کرتا ہوں کہ آئیے اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیجئے ۔ ہو سکے تو اپنے اخراجات کم کر کے رقوم مہیا کیجئے ۔ ایک خیال رکھئے کہ رقوم صرف ایسے رفاہی اداروں اور لوگوں کو دیجئے جن کے متعلق آپ کو یقین ہو کہ آپ کی اعانت حقدار متاءثرین تک بحفاظت پہنچ جاۓ گی ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سوات کے زلزلہ زدگان کے لئے ترکی سے آئے ہوۓ کمبلوں سے اپنے گھر بھرنے والے ۔ زکات کے کروڑوں روپوں سے امریکہ جا کر عیش کرنے والے ۔ عوام سے وصول کئے ہوۓ ٹیکس سے عمرے کرنے والے اور میلاد النبی یا طازیہ کے نام پر رقوم وصول کر کے جوا کھلنے والے بھی ہیں ۔

ہفتہ کی صبح کے بڑے زلزلہ کے بعد سے اتوار کو مغرب تک 145 جٹکے ریکارڈ کئے گئے جن میں 25 کی طاقت رخٹر سکیل پر 5 سے زیادہ تھی ۔ اسلام آباد میں بھی جھٹکے ابھی تک محسوس کئے جارہے ہیں مگر فریکوئنسی کم ہے ۔ کبھی کبھی زوردار جھٹکا بھی آتا ہے ۔ اسلام آباد میں یہ جھٹکے ایف سیکٹرز میں زیادہ محسوس کئے جا رہے ہیں ۔

مجھ پر کسی کو اعتماد ہو تو میں خدمت کے لئے حاضر ہوں ۔ ٹیلیفون نمبر اسلام آباد کا 2252988 اور موبائل فون 03215102236

8 thoughts on “موجودہ صورت حال

  1. Very heart breaking incidents have you described here. On the little kid’s incident, I saw similar scenes at PAF Museum here in Karachi yesterday. At least three families in front of my eyes threw couple of stuffed toys on the goods being collected for relief fund. The little kids had almost no expressions while they were giving away their possessions. And for once I felt the child really could be the father of man sometimes.
    Asma has so rightly said in her recent post that we spent hundreds of extra cash on Special Aftari buffet and arrangements, not to mention the Eidi and shopping, while it’s food for us, it could rightly be “life” to someone in need. And I wonder if we cant do this little bit which would only ensure few day’s protection from rain and such for these families, why else do we brag about humanity and values and religious love. And yes, pls keep writing. Sometimes when we can’t see clearly enough, we’d need others eyes.and then you realize you have been a lot valuable than you think.

  2. Mr Ejaz Asi
    I can feel your concern. Some how I cannot see any body in trouble what to say of a clamity. In my childhood, I very rarely spent my pocket money on myself. I used to collect it and give that to the needy. Sometime, I had no money and I came across a needy. Then I used to request my mother to give some money but I never told any body what I did with my pocket money and eidees. Today, for the first time I have broken this secret. Actually I was copying my mother.

  3. I just want to say thank you for taking the time & effort for put this web page together! Please also visit my site:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s