Economics and Arogance

Economics

Sura 25 AL-FURQAN Verse 67 Those who, when they spend, are not extravagant and not niggardly, but hold a just (balance) between those (extremes);

Arrogance

Sura 31 LUQMAN Verses 18 & 19“And swell not thy cheek (for pride) at men, nor walk in insolence through the earth; for Allah loveth not any arrogant boaster. “And be moderate in thy pace, and lower thy voice; for the harshest of sounds without doubt is the braying of the ass.”

ہزاروں میں سے ایک آپ بیتی

سید عدنان علی نقوی، کراچی

اس زلزلے نے شاید میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی ہے۔ میرے والد فوج میں میجر تھے اور ہم تین بہنیں اور دو بھائی تھے۔ جن میں سے اب دو بہنیں اور ایک میں رہ گیا ہوں۔

زلزلے والے دن میں دفتر میں تھا کہ ماما نے مجھے فون کیا کہ ٹی وی پر بلیٹن آیا ہے کہ زلزلہ آیا ہے اور کچھ عمارتیں گری ہیں۔ اس کے بعد میں نے اپنی بہن کو فون کرنے کی کوشش کی۔ وہ دو مہینے قبل اسلام آباد شفٹ ہوئی تھی۔ اس کے شوہر ایف آئی اے میں ہیں اور کراچی سے اسلام آباد ٹرانسفر ہوکر گئے تھے۔

ہم انتہائی خدشات کا شکار تھے۔ میں جب یہاں سے بھاگا تو فلائٹ نہیں مل رہی تھی۔ کوئی چار بجے کے قریب جاکر میں اسلام آباد پہنچا۔ ساڑھے چھ بجے میرے پیچھے میری ماما پہنچیں۔ جب وہاں ہم پہنچے تو فوج نے علاقے کو اپنی نگرانی میں لے لیا تھا۔ یہ تک پتہ نہیں چل پا رہا تھا کہ کون سا بلاک گرا ہے۔

میرا چھوٹا بھائی ایبٹ آباد میں تھا اور اسے وہاں سے رسالپور جانا تھا۔ وہ ائیرفورس میں جانے والا تھا۔ میں نے اسے اطلاع دینے کی کوشش کی تو اس کا بھی پتہ نہیں چل پا رہا تھا۔ رات کو آٹھ بجے کے قریب احساس ہوا کہ وہ بھی لاپتہ ہے۔ اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اپنے کسی دوست کے والد کی وفات کی تعزیت کے لئے وہ جمعرات کو بٹاگرام گیا تھا اور اسے ہفتے کو لوٹنا تھا لیکن وہ واپس نہیں لوٹا۔ دوسری طرف ہمیں اپنی بہن کے بارے میں پتہ نہیں چل رہا تھا۔

پھر معلوم ہوا کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد میں لاشیں اور زخمی لائے جارہے ہیں تو ہم وہاں دوڑے۔ وہاں کوئی فہرست موجد نہیں تھی کہ کون کس کی لاش ہے۔ ان لاشوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ ان کی شناخت کرنا انتہائی دشوار تھا۔ کچھ کے کپڑوں سے بھی اندازہ نہیں ہوپارہا تھا۔ تقریباً رات ساڑھے بارہ بجے اس کی چوڑیوں اور گلے میں پہننے والی چین سے ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ وہی باڈی ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ پھر ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ جس حالت میں یہ باڈی ملی کہ ایک بچہ اس کے ساتھ تھا جو مرنے کے وقت اس کے ساتھ ہی لگا ہوا تھا۔ یہ تقریباً گیارہ مہینے کا بچہ تھا۔ یہ اس کا پہلا بچہ تھا اور بچے کا چہرہ سلامت تھا جس سے اس کو پہچاننے میں آسانی ہوئی۔

بھائی کی ہمیں یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ وہ صبح سحری کرکے وہاں سے نکلا تھا لیکن افسوس کہ حکومت ابھی تک کچھ نہیں کرپائی۔ باوجود اس کے کہ مجھے اس کی لاش مل گئی لیکن بٹاگرام کے اس گاؤں تک میں ابھی تک نہیں پہنچ پایا ہوں۔ رکھیلی یا رسیلی اس جگہ کا نام ہے، ابھی تک ہم اس گاؤں میں اس خاندان سے رابطہ نہیں کر پائے جہاں وہ گئے تھے۔

پہلے ہم نے بھائی کی گاڑی کے ذریعے اسے ٹریس کرنے کی کوشش کی۔ میں فوراً بھاگا، ایبٹ آباد گیا۔ ان کی گاڑی ایبٹ آباد نمبر کی تھی اور اس سے دولاشیں پنڈی سی ایم ایچ میں آئی تھیں۔ ان میں سے ایک کو بھائی کے دوست کے طور پر شناخت کرلیا گیا تھا۔ میری ماما نے مجھے کال کیا۔ میں واپس پنڈی دوڑا اور جس کی لاش شناخت ہوئی تھی اس کی فیملی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو باڈیز مل گئی ہیں۔ گاڑی بھی مل گئی ہے اور باقی دو باڈیز کی تلاش ابھی جاری ہے۔ وہ شاید بلا کوٹ سے پہلے کاغان اور ناران کے درمیاجن والی سڑک پر راستے میں تھے جب لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے کوئی چٹان یا پتھر گاڑی کو لگا اور وہ گاڑی نیچے وادی میں جاگری۔ گاڑی کے اندر کی دو باڈیز مل گئیں۔ بعد جب ملٹری نے اس راستے کو کھولا تو مٹی میں سے بہت سی باڈیز ملیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے خود دیکھا کہ وہاں وہ حالت تھی کہ بتانے سے قاصر ہیں۔ لوگ مٹی میں دبے تھے اور کسی کا کوئی احترام نہ تھا۔ کسی کا ہاتھ نظر آرہا ہے، کسی کا جوتا نظر آرہا ہے اور کسی کی قمیض۔ یوں میں یہ باڈی لے کر اسلام آباد پہنچا۔

وہاں لوگوں نے بتایا کہ یہ لوگ ایک چھوٹے سے قافلے کی شکل میں تھے جس میں ایک منی وین، دو ڈاٹسن کاریں تھیں اور یہ لوگ پوٹھوہار جیپ میں تھے۔ یہ کاغان ویلی سے بالا کوٹ کے لیے آرہے تھے۔ وہاں جو میں نے تھوڑی بہت تفتیش کی تو یہ واحد گاڑی تھی جو یوں لگ رہا تھا کہ کسی نے اٹھا کر پھینک دی ہے۔ باقی سب گاڑیاں ابھی تک مٹی میں دبی ہوئی تھیں۔ اس میں سے یہ دو کیسے نکلے، آیا یہ زخمی تھے کیونکہ وہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب لوگوں نے انہیں نکالا تو ایک بندے کی سانس چل رہی تھی۔ وہاں ایک لڑکا فیض تھا جس کا پورا خادان ہلاک ہوگیا تھا، اس نے میرے بھائی کو پی ایف اکیڈیمی کے کارڈ سے پہچانا اور پھر فون کئے۔

وہاں امدادی کاروائیوں کی حالت بہت خراب تھی۔ بالا کوٹ اور مظفرآباد میں بہت رش تھا۔

یقین کیجئے میں پچھلے دو دن مظفرآباد میں گزار کے آیا ہوں۔ نیلم ویلی اور اس سے اوپر کے علاقوں کے جو حالات ہیں وہ ناقابلِ بیان ہیں۔ خود مظفراْاد میں ایسی موت کی بدبو ہے کہ جو مجبوری میں کھڑا ہے وہ تو کھڑا ہے لیکن مجھ جیسے آدمی کا کھڑا ہونا بہت مشکل تھا۔ فوج بھی جارہی ہے لیکن کئی علاقے ایسے ہیں جہاں کچھ نہیں پہنچا۔ انتہائی شدید سردی ہے۔

آپ یقین کریں کہ ہمیں وہاں ایک بچہ ملا جس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھا تھا، میرے ساتھ میرے دوست اور کزنز تھے، انہوں نے کہا دیکھو، یہ بچہ ہے، میں نے کہا نہیں کوئی چٹان گری پڑی ہے۔ ہم نے گاڑی روکی تو وہ بچہ بخار سے تپ رہا تھا۔ وہ تین چار سال کا بچہ تھا کچھ بتا نہیں سکتا تھا، صرف اس کی آنکھیں ایک طرف تھیں، دیکھا تو اوپر کچھ بلندی پر ایک گھر تھا، وہاں پہنچے تو پورا گھر تباہ ہوچکا تھا۔ جب اس بچے کو فوجی ہسپتال میں پہنچایا تو انہوں نے کہا کہ اس کا نمونیہ آخری سٹیج پر ہے، خدا کرے یہ بچہ بچ جائے۔

بہت بری حالت ہے، میں کراچی آگیا ہوں اور کل اپنی ٹیم لے کر جا رہا ہوں لیکن میں اتنا کہوں گا کہ میڈیا جو کچھ دکھا رہا ہے، وہ پچیس فیصد بھی نہیں جو ہوا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی وجہ کیا ہے لیکن خدا کے لئے وہاں جائیں جو بڑے شہر نہیں ہیں۔ میڈیا وہاں پہنچ سکتا ہے۔ وہاں مت جائیں جہاں صدر جاتے ہیں۔

ماشاء اللہ عوام مستعد ۔ مگر حکومت ؟ ؟ ؟

میں زیادہ تر گھر میں رہ کر متاءثرین کے لئے جو کچھ مجھ سے اللہ نے کام لینا ہے کر رہا ہوں البتہ اسلام آباد کے اندر جو کام ہو وہ میں اپنی کار پر جا کر کر لیتا ہوں ۔ اس کے علاوہ رضاکار تنظیموں سے رابطہ ہے ۔ راولپنڈی کے کام یعنی سامان آرڈر کرنا اور لانا میرے دو بھائی کرتے ہیں ۔ وہ بھی مجھے حالات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ عوام پورے جوش اور جذبہ کے ساتھ امدادی اشیاء اکٹھی کر رہے اور امدادی کاروائیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر اور متعلقہ سٹاف بھی بھرپور کام کر رہے ہيں ۔ عوامی کوشش کی صرف ایک مثال ۔ راولپنڈی میں ایک خیمے بنانے کا کارخانہ ہے جو دن رات کام کر رہا ہے ۔ ایک خیمہ کی قیمت 3000 یا 3500 روپے کپڑے کی قسم کی بنیاد پر ہے ۔ 7 خیمے 3000 روپے والے ہمیں بازار سے مل گئے تھے اور 3500 روپے والے 63 آرڈر کئے ہوۓ تھے جو بدھ اور جمعہ کی درمیانی رات 11 بجے ملنا تھے ۔ وقت مقررہ پر میرے بھائی کارخانہ پہنچ گئے وہاں کئی کاریں ۔ پک اپ اور ٹرک بھی قطار میں لگے ہوۓ تھے ۔ میرے بھائی 2 بجے خیمے لے کر آۓ ۔
یہاں کلک کر کے ایک متعلقہ مضون پڑھئیے ۔ اس کے بعد یہاں کلک کر کے متاءثرہ دیہات کے متعلق پڑھئے ۔

UPDATE from Hospitals – MUST READ

Mr Ejaz Asi of Karachi arrived in Islamabad five days back and left for affected areas yesterday with a foreign team of volunteers. He is in touch with me since the calamity took place on October 08, 2005. Below I reproduce a few excerpts from his messages that concern every body with a request that, kindly, do the bit you can and prove your worth as human being.

Mr Ejaz Asi writes:
I have been called by some fine gentlemen as soon as the news of patient management system got spread. I was working as a volunteer to move patients in and out of these hospitals when I quickly had few meetings with surgeons and doctors at PIMS, RGH and DHQ… haven’t tried CMH because of few reasons though. But I have gathered initial assessment of HR, data requirements and few specs which I would have loved to share with you guys right away but since there are so many other things going on and I am just trying to give my best not to let these IT initiatives be a shame of Management, Team Work and Optimized level of motivation…. I personally believe to request and work with Islamabad based developers, analysts and QA gentlemen and in this regard, I would greatly depend and count on the efforts of Taha Masood (Ex-Nustian), Asif Malik (Ex-Fastian, IBM) and Asma Mirza (IIU) and Iftikhar Ajmal who’s been very helpful before my arrival here at ISB. I have yet to see both of strong contenders for Patient Management System and Missing People Database – Tsunami-tested Sohana http://sahana.sourceforge.net/ and THK’s own systems.

I am insisting and coordinating with few web-savvy doctors to start writing their medi-blogs, diaries right from the hospitals where instead of existing capacity of 700, they are forced to manage 3000 and increasing no. of patients. These doctors can easily manage their blogs and daily diaries of incidents only they can tell. Ideally, I would have wishes podcasts. But in a country where the first collective serious blogging started no sooner than 14th Aug 2005 and now in this disaster, I think that might be little too cutting-edge for us. Though that’d be ideal in our case. I strongly urge islamabadians to visit these hospitals and meet the docs and improve their IT infrastructure as much as you guys can. Aside from few field hospitals which I visited only yesterday, thanks to army and UN teams, the local Pindi hospitals have doctors who can give you some time. Ultimately these doctors and NGOs would be reporting round the clock not the News Agencies (dont ask me why but that’s how public media should and would work in the new economy, I strongly believe and advocate).

WHAT WE NEED:
a.Immedialty need volunteers to establish a help desk at MOITT or at PM RC.
b. Hardware equipment, preferably 15 laptops w digital cameras in the first phase to go out with inmar sat phones to the field hospitals.
c.15 2-3 kva Generators set for recharging the laptops and sat phones.
d. 15 low density scanners.
e. 2-3 dual processor intel servers to upgrade server farm at RMC.

Intel has been asked to provide the laptops and servers. Need assistance with the rest of the stuff.

How it is presently working

An Army Ambulance arrives at the gates of Hospital X (and it’s been the same everywhere) with 6 patients lying
They drop them at the ground and run away to fetch more
The volunteers rush to attend the patient and bring them to Q & C (Information Desk or Sorting Place you can call)
The attendant hurriedly examines each patient and directs different volunteers to send each patient to different wards
Patient arrives at ward A*
If the patient is in critical situation, he/she is immediately taken to the surgery or emergency ward* If the patient is accompanied by someone, anyone who knows him/her is asked about the patient’s name and whereabouts.
Data is entered into the hard-copy forms with at least these known fields – patient no.,
Check In Time, bed no. ward and hospital, we would assume it is not necessary in their case but IS in our case[ Some patients come in unconscious state, others are too young to tell about their whereabouts. Some patients don’t even know what to say or they just refuse to say anything and some of them die before the Hospital fills in their name even. Hospitals consider such patients as Un-Attended patients. ]
The patient is treated for Orthopedic injuries and after two days sent to the Ward B.
The Ward A updates the record of patient with Check Out time.
Ward B. registers the patient with new bed no. and ward name.
Either Ward B. discharges the patient on grounds that he knows someone in Rawalpindi or around and can come back after 2 weeks for a re-checkup.
Or is sent to Gujranwala or Attock or any other place.
The record of which is maintained variably by different hospitals, CMS does it the best.
The last ward and only last ward has the record of Check Out date and the Hospital name where the patient A is shifted to.
Person A arrives at the hospital X
AFTER having enquired from various sources about the patient and asks about the patient A.
Person A is told that the patient A is in Gujranwala.
By the time Person A reaches Gujranwala, Patient A is transferred to Govt.’s Relief Homes.
Patient A, after having been treated is still mentally stressed and leaves relief home.
Person A gets into the loop and gives up after some time….