صیہونی ریاست کی تجویز

میں نے بنی اسراءیل کی بالکل مختصر تاریخ 14 نومبر کو پوسٹ کی تھی ۔ اب ریاست اسرائیل کی مختصر تاریخ ۔

آسٹرین یہودی تھیوڈور ہرستل یا تیفادار ہرستل بڈاپسٹ میں پیدا ہوا اور ویانا میں تعلیم پائی ۔ اس کا اصلی نام بن یامین بتایا جاتا ہے سیاسی صیہونیت کا بانی ہے ۔ اس نے 1896 عیسوی میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی ” ڈر جوڈن شٹاٹ” یعنی یہودی ریاست جس کا انگریزی ترجمہ اپریل 1896 میں آیا ۔ اس ریاست کے قیام کے لئے ارجٹائن یا مشرق وسطہ کا علاقہ تجویز کیا گیا ۔ برطانوی حکومت نے ارجٹائن میں یہودی ریاست قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے فلسطین میں قائم کرنے پر زور دیا ۔ اس ریاست کا جو نقشہ بنایا گیا اس میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا سارا علاقہ شامل دکھایا گیا یعنی مصر کا دریائے نیل سے مشرق کا علاقہ ۔ سارا فلسطین ۔ سارا اردن ۔ سارا لبنان ۔ شام اور عراق کا دو تہائی علاقہ اور سعودی عرب کا ایک تہائی علاقہ ۔ اس کے بعد صیہونی کانگرس کا باسل (سوئٹزرلینڈ) میں اجلاس ہوا جس میں فلسطین میں خالص صیہونی ریاست بنانے کی منظوری دی گئی اور ساتھ ہی بین الاقوامی صیہونی تنظیم بنائی گئی تا کہ وہ صیہونی ریاست کا قیام یقینی بنائے ۔

Writes Mr M. Shahid Alam who teaches economics at a university in Boston, USA.

The goal of a Jewish state in Palestine with a Jewish population had an unavoidable corollary. As the Jews entered Palestine, the Palestinians would have to be ‘transferred’ out of Palestine. As early as 1895, Theodore Herzl had figured this out in an entry in his diary: “We shall try to spirit the penniless population across the border by procuring employment for it in the transit countries, while denying it any employment in our own country.”Others took a more direct approach: “As soon as we have a big settlement here we’ll seize the land, we’ll become strong, and then we’ll take care of the Left Bank. We’ll expel them from there, too. Let them go back to the Arab countries.” At some point, when a dominant Jewish presence had been established in Palestine, and the Palestinians had departed or been marginalized, the British could end their mandate to make room for the emergence of a Jewish state in Palestine.This plan ran into problems. The Palestinians would not cooperate: they refused to leave and very few were willing to sell their lands. As a result, in 1948, the year that Israel was created, nearly all of Palestine’s “penniless population” was still in place and more than 50 years after the launching of political Zionism, the Jewish settlers owned only seven per cent of the lands in Palestine, not the best lands either.

1896 سے ہی یورپ سے یہودی نقل مکانی کر کے فلسطین پہنچنا شروع ہو گئے اور 1897 عیسوی میں فلسطین میں یہودیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی ۔ جب کہ مسلمان عربوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی ۔1903 عیسوی تک یورپ سے ہزاروں یہودی فلسطین پہنچ گئے اور ان کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہو گئی ۔ 1914 تک مزید چالیس ہزار کے قریب یہودی فلسطین پہنچے ۔

1916 عیسوی میں مصر میں برطانیہ کے کمشنر ہنری مکماہون نے مصر سے عرب فوجی بھرتی کرنے کے لئے وعدہ کیا تھا کہ عربوں کے وہ علاقے جو سلطنت عثمانیہ میں شامل تھے آزاد کر دیئے جائیں گے ۔ برطانیہ کی عیّاری ملاحظہ ہو کہ اسی زمانہ میں خفیہ معاہدہ سائیکس پیکاٹ کیا گیا جس کی رو سے برطانیہ اور فرانس نے علاقہ کو اپنے مشترکہ انتظام کے تحت تقسیم کر دیا ۔ مزید عیّاری یہ کہ 1917 عیسوی میں برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور نے برطانیہ کی طرف سے لارڈ راتھ شلڈ نامی صیہونی لیڈر کو لکھے گئے ایک خط میں فلسطین کے اندر ایک صیہونی ریاست بنانے کے لئے کام کرنے کا وعدہ کیا ۔ جنگ عظیم کے اختتام پر 1918 عیسوی میں مصر سے بدعہدی کرتے ہوۓ فلسطین پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا ۔ لیگ آف نیشنز نے 25 اپریل 1920 کو فلسطین پر انگریزوں کے قبضہ کو جائز قرار دے دیا ۔

1918 عیسوی میں فلسطین ميں یورپ سے مزید یہودی آنے کے باعث ان کی تعداد 67000 کے قریب تھی ۔ برطانوی مردم شماری کے مطابق 1922 عیسوی میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی 11 فیصد تک پہنچ گئی تھی یعنی 667500 مسلمان تھے تو 82500 یہودی تھے ۔ 1930 تک برطانوی سرپرستی میں مزید 300000 سے زائد یہودی یورپ اور روس سے فلسطین پہنچائے گئے جس سے عربوں میں بے چینی پیدا ہوئی ۔

اگست 1929 میں یہودیوں اور فلسطینی مسلمانوں میں جھڑپیں ہوئیں جن میں سوا سو کے قریب فلسطینی اور تقریبا اتنے ہی یہودی مارے گئے ان جھڑپوں کی ابتداء صیہونیوں نے کی تھی لیکن برطانوی پولیس نے صیہونیوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا ۔ برطانیہ کا رائل کمشن جس کا سربراہ لارڈ پیل تھا نے 1937 عیسوی میں تجویز دی کہ فلسطین کو تقسیم کر کے تیسرا حصہ یہودیوں کو دے دیا جائے ۔ اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی زمینی ملکیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ فلسطینی اس کے خلاف دو سال تک احتجاج کرتے رہے ۔ وہ چاہتے تھے کہ تقسیم نہ کی جائے اور صرف اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ اس پر برطانیہ سے مزید فوج منگوا کر فلسطینیوں کے احتجاج کو سختی سے کچل دیا گیا ۔ 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی اور فلسطین کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا مگر صیہونیوں نے یورپ سے فلسطین کی طرف نقل مکانی جاری رکھی ۔