بندر بانٹ اور دہشت گردی

میں نے ریاست اسرائیل کی 1896 سے 1939 تک کی تاریخ 22 نومبر کو لکھی تھی
اس سے پیشتر بنی اسراءیل کی مختصر تاریخ 14 نومبر کو لکھ چکا ہوں
فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا مقصد ایک صیہونی اڈا بنانا تھا جو وہاں سے فلسطینیوں کے انخلاء اور ان کی جائیدادوں پر قبضے کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا ۔ چنانچہ جوں جوں یورپ سے یہودی آتے گئے توں توں فلسطینیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جاتا رہا ۔

تھیوڈور ہرستل نے 1885 میں اپنی ڈائری ميں لکھا تھا ” ہم فلسطینیوں کو اپنے ملک میں روزگار کی تلاش سے روکیں گے اور غیر ممالک میں روزگار کا لالچ دے کر جلاوطن کر دیں گے”۔ دوسرے صیہونیوں نے زیادہ راست اقدام کا فیصلہ کیا جو یہ تھا “جونہی ہم فلسطین میں اپنی ایک بستی بنا لیں گے تو ہم زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیں گے ۔ پھر جب ہم مضبوط ہو جائیں گے تو بائیں کنارے کا بھی بندوبست کریں گے”۔ اس منصوبہ میں رکاوٹ یہ آئی کہ شروع میں چند فلسطینیوں نے اپنی زمینیں بیچیں مگر باقی لوگوں نے زمینیں بیچنے سے انکار کر دیا ۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے ذرا سا ہوش سنبھلتے ہی 1947 میں فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کے حوالہ کر دیا ۔ اس وقت تک یہودیوں کی تعداد فلسطینیوں کا ایک تہائی ہو چکی تھی لیکن یہودی فلسطین کے صرف 6 فیصد کے مالک تھے ۔یو این او نے ایک کمیٹی بنائی جس نے سفارش کی کہ فلسطین کے 56 اعشاریہ 5 فیصد علاقہ پر صرف 6 فیصد کے مالک یہودیوں کی ریاست اسرائیل بنا دی جائے اور 43 اعشاریہ 5 فیصد علاقہ میں سے بیت المقدس کو بین الاقوامی بنا کر باقی تقریبا 40 فیصد فلسطین کو 94 فیصد کے مالک مسلمانوں کے پاس رہنے دیا جائے ۔ 29 نومبر 1947 کو یو این جنرل اسمبلی نے 13 کے مقابلہ میں 33 ووٹوں سے اس کی منظوری دے دی ۔ 10 ممبر غیر حاضر رہے ۔ فلسطینیوں نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور صیہونیوں نے فلسطینی مسلمانوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے ۔

صیہونیوں کی بڑے پیمانے پر دہشت گردی ۔

صیہونیوں نے بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل اڑا دیا جس میں 91 آدمی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ ان میں برطانوی فوجی ۔ فلسطینی مسلمان ۔ عیسائی اور چند یہودی بھی شامل تھے ۔ یہ دنیا میں پہلی بارودی دہشت گردی تھی ۔ صیہونی نقطہء نظر یہاں دیکھئے ۔ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ سے برطانیہ کے اندر حکومت پر فلسطین سے فوجیں نکالنے کا دباؤ پڑنے لگا ۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت مزید یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے امریکی دباؤ سے بھی پریشان تھی ۔ چنانچہ برطانیہ کی حکومت نے اعلان کر دیا کہ وہ فلسطین میں اپنی حکومت 15 مئی 1948 کو ختم کر دے گی ۔

صیہونیوں نے جن کے لیڈر معروف دہشت گرد تھے فلسطینیوں پر حملے اور ان کا قتل تو پہلے ہی شروع کر دیا تھا لیکن 1948 میں اچانک فلسطین کے مسلمانوں پر بڑے پیمانہ پر ایک عسکری کمانڈو حملہ کر کے کچھ دیہات پر قبضہ کر لیا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا ۔ امریکہ صیہونیوں کی پشت پناہ پر تھا اور ان کو مالی اور فوجی امداد مہیا کر رہا تھا ۔ اس طرح روس یورپ اور بالخصوص امریکہ کی مدد سے یہودی نے اپنی دو ہزار سال پرانی آرزو ” یہودی ریاست اسرائیل” کا 14 مئی 1948 کو 4 بجے بعد دوپہر اعلان کر دیا جو دراصل صیہونی ریاست تھی کیونکہ کئی یہودی مذہبی پیشواؤں نے اس کی مخالفت کی ۔ اگلے دن برطانیہ کے بقیہ فوجی بھی اپنی چھاؤنیاں صیہونیوں کے حوالے کر کے چلے گئے ۔ اس کے بعد مار دھاڑ روز کا معمول بن گیا ۔ صیہونی مسلحہ دستے مسلمان عربوں کی املاک پر قبضہ کرتے چلے گئے کیونکہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے تربیت یافتہ کمانڈو تھے اور انہيں امریکہ اور برطانیہ کی امداد بھی حاصل تھی ۔ یہودیوں کی دہشت گرد تنظیموں کے نام بدلتے رہے کیونکہ وہ یورپ میں بھی دہشت گردی کرتی رہیں اور دہشت گرد قرار دی جاتی رہیں ۔ مشہور نام یہ ہیں ۔ ہاگانہ ۔ اوردے ونگیٹ ۔ ارگون ۔ لیہی ۔ لیکوڈ ۔ ہیروت ۔ مالیدت ۔

چند مشہور دہشت گرد لیڈروں کے نام یہ ہیں ۔ موشے دیان جو 1953 سے 1957 عیسوی تک اسرائیل کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف رہا ۔ مناخم بیگن جو 1977 میں اسرائیل کا وزیراعظم بنا ۔ یتز ہاک شمیر جو 1983 میں وزیراعظم بنا ۔ ایرئل شیرون جو موجودہ وزیراعظم ہے ۔ موشے دیان کو دہشت گرد ہونے کے باوجود برطانوی فوج میں کسی خاص کام کے لئے کچھ عرصہ کے لئے بھرتی کیا گیا تھا ۔ وہ برطانوی فوج کی ملازمت چھوڑ کر پھر صیہونی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا اور اس کا کمانڈر بن گیا ۔

عربوں کی املاک پر قبضہ کرنے کے لئے جو حملے کئے جاتے رہے ان کا کمانڈر موشے دیان ہی تھا ۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے نہ صرف وہ علاقے زبردستی قبضہ میں لئے جو یو این او یہودیوں کو دینا چاہتی تھی بلکہ ان علاقوں پر بھی قبضہ کیا جو یو این او کے مطابق فلسطینیوں کے تھے ۔ قبضہ کے دوران جو فلسطینی مسلمان نظر آتا اسے قتل کر دیا جاتا ۔ میناخم بیگن اس دہشت گرد گروہ کا سربراہ تھا جس نے بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل اڑا دیا تھا ۔ صابرا اور شتیلا کو گھیرے میں لے کر وہاں مقیم چار ہزار نہتے فلسطینی مہاجرین کو قتل کرنے کا حکم دینے والا ایرئل شیرون تھا جو ان دنوں اسرائیل کا وزیر دفاع تھا ۔

One thought on “بندر بانٹ اور دہشت گردی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s