مختاراں مائی کا دورہء امریکہ

Advertisements

Time is Now

The world is full of Sons and Daughters like you and me. I had a marvelous mother who loved me, sacrificed for me and helped me in every way possible. In all of my growing up from childhood through college and eventually marriage, my mother was always at my side.
And when I needed help with my little ones, she was there for me.Today, we buried this wonderful woman. Can you imagine how I felt when I returned from the services and found a poem in her desk drawer written by my mom.

The Time is Now ! ! !
If you are ever going to love,
Love me now while I can know
The sweet and tender feelings which
From true affection flow
Love me now while I am living
Do not wait until I am gone
And then have it chiseled in marble
Sweet words on ice-cold stone

If you have tender thoughts of me
Please let me know now
If you wait until I am sleeping

I won’t hear you then
So if you love me even a little bit
Let me know while I am living so that I can treasure it.
Now she is gone and I am sick with guilt because
I never told her what she meant to me.
Worse yet, I did not treat her as she deserved to be.
I found time for everyone and everything
but never made time for her.

It would have been easy to drop in for a cup of tea and a hug
but my friends came first.
Would any of them have done for me
what my mother did, I know the answer.

When I called mom on the phone,
I was always in a hurry.
I feel ashamed when I think of the times I cut her off.
I remember too, the times I could have included her and didn’t.

Our children loved Grandma from the times they were babies.
They often turned to her for comfort and advice.
She understood them.

I realize now that I was too critical,
too short-tempered, too stingy with praise.
Grandma gave them unconditional love.
The world is filled with sons, daughters and a child like me.
I hope they see themselves in this letter and realize from it.
(Anonymous)

Comment Moderation and An Apology

Four days back, I had installed “comment moderation system” recently introduced by blogger.com. It also provides user-friendly editing of comment before publishing.

Early morning on Monday, I had to leave for Lahore due to death of a relative and came back yesterday after noon. The comments that were written during this period could not be seen by me earlier than yesterday evening. So, inconvenience to any commenter is regretted.

عید کا دن کیسے گذرا

فجر کی نماز پڑھ کے واپس لوٹا تو اٹلانٹا میں بڑے بیٹے زکرّیا ۔ بہو بیٹی اور پیاری پوتی سے بات کی ۔ پوتی کی زبان ابھی کوڈڈ ہے اس لئے سمجھ نہیں آتی۔ ٹیلیفون کے بعد کپڑے استری کئے کیونکہ ملازم عید کرنے گاؤں چلے گئے تھے پھر غسلخانہ میں نماز عید کی تیاری کے لئے گھس گئے ۔ تیار ہو کر حسب معمول کھجوریں اور سوّیاں کھائیں اور نماز کے لئے چل دیئے ۔ نماز سیکٹر ایف ۔ 8 ہی میں فٹبال گراؤنڈ میں پڑھی ۔ نماز کے بعد سیکٹر ایچ ۔ 11 میں قائم متاءثرین کیمپ میں بچوں میں تحائف تقسیم کرنے جانا تھا مگر میرے دو بھائی فیصل مسجد نماز پڑھنے گئے تھے اور واپسی میں بہت زیادہ تاخیر ہو گئی ۔ پتہ چلا کہ وزیراعظم شوکت عزیز صاحب کی آمد کی خبر کی وجہ سے پرائیویٹ گاڑیوں کو مسجد سے ایک کلومیٹر دور ہی روک دیا گیا ۔ وہاں سے پیدل چلے ۔ پھر میرے بھائی سے کار بند کرنے کا ریموٹ کنٹرول بھی لے لیا گیا ۔ وزیراعظم کی انتظار میں نماز بھی دیر سے پڑھائی گئی مگر وہ تشریف نہ لائے ۔ پتہ چلا کہ وہ سیکٹر ایچ ۔ 11 میں قائم متاءثرین کیمپ چلے گئے ہیں جہاں وہ عید کا دن متاءثرین کے ساتھ گذاریں گے ۔

خیر ہم متاءثرین کے کیمپ گئے اور پہلی دفعہ چاروں طرف نظر دوڑائی تاکہ وہاں تحائف تقسیم کئے جائیں جہاں پہلے تحائف نہ پہنچے ہوں ۔ خیمرں کے شہر میں محلے بنے تھے ۔ ہر محلہ میں ذمہ داری کسی نہ کسی رفاہی ادارہ کی تھی ۔ ہم نے جو علاقہ چنا وہاں اشیاء ضرورت اور کھانا پہنچانے کا بندوبست الرشید ٹرسٹ ۔ جماعت اسلامی کا الخدمت اور الاختر ٹرسٹ کا تھا مگر دور ہونے کی وجہ سے ابھی وہاں شہری تحائف لے کر نہیں پہنچے تھے ۔ سواۓ ایک دو کے وہاں کام کرنے والے سارے ادارے اسلامی تعلیمات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ابھی کئی متاءثرین کھلے آسمان کے نیچے زمین پر بیٹھے تھے ۔

تحائف تقسیم کرنے کے بعد ہم واپسی کی تیاری میں تھے تو چند متاءثرین اور سی ڈی اے کا ایک اہلکار ہمیں الوداع کہنے لگے تو میرے بھائی نے پوچھا کہ صبح وزیراعظم صاحب آئے تھے آپ کے ساتھ عید گذارنے کے لئے وہ کہاں ہیں ؟ جواب ملا کہ وہ آئے تھے اور کسی کے لائے ہوۓ خیموں میں سے ایک دو خیمے وڈیو کیمروں کے سامنے متاءثرین کو دیئے اور چلے گئے ۔

ہم دو بھائی گھر کو واپس ہوۓ ۔ چھوٹا بھائی ڈی ایچ کیو ہسپتال راولپنڈی روانہ ہوا جہاں وہ سرجیکل وارڈ کا انچارج ہے ۔ واپسی پر اس نے بتایا کہ آجکل سارا ہسپتال زخمی متاءثرین سے بھرا ہوا ہے ۔ ان کو کھانا ہسپتال کی بجاۓ رضاکار فرد یا ادارے ہی پہنچا رہے ہیں ۔ عید کے دن دوپہر کا کھانا ہمارے ایک پرانے جاننے والے حیدر صاحب نے دینا تھا ۔ بھائی ڈیڑھ بجے ہسپتال پہنچا تو کھانا ابھی تقسیم نہیں ہوا تھا ۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ تحصیل ناظم نے ٹیلیفون کیا تھا کہ میرے آنے تک کھانا تقسیم نہ کیا جاۓ اور اب وہ تشریف لے آۓ ہیں ۔ بھائی نے دیکھا کہ ایک شخص 6 بندوق بردار آدمیوں ۔کئی دوسرے کھڑپینچوں اور وڈیو ٹیم کے ساتھ آ رہا ہے ۔ اس نے آکر حیدر صاحب کی کھانے کے ساتھ لائی ہوئی مٹھائی کے دو تین ڈبے وڈیو کیمرہ کے سامنے متاءثرین کو دیئے اور چلتے بنے ۔

تو جناب یہ ہے ان ڈراموں کی ایک معمولی سی جھلک جو ہمارے حکمران اس بدنصیب قوم کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔

امدادی کاموں میں افراتفری

آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کو تین ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کیے جانے والے امدادی کام میں وہ نظم و ضبط نظر نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق امدادی کاموں کو بے یقینی اور افراتفری پہلے دن نظر آرہی تھی وہ اب بھی عیاں ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امدادی کام کو کنٹرول کرنے والے ادارے فوج اور سول انتظامیہ کے مابین رابطے کا فقدان ہے۔

’سول انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کا کہنا ہے کہ امدادی کام پر فوج کا قبضہ ہے اور ان پر اس کسی طرح کا اختیار نہیں ہے۔‘

نامہ نگار کے مطابق زلزلہ زدگان کے لیے ہونے والے امدادی کام کی اہم بات یہ ہے کہ غیر ملکی امدادی ادارے اور غیر ملکی ماہرین ریلیف آپریشن پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے کہا جا رہا ہے اگر بروقت امداد نہ پہنچی تو مزید اموات ہوں گی جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت ’سب اچھا ہے‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔

نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ امدادی کام کے سلسلے میں ان کی حکومت کی بدنامی نہ ہو۔

’اس کوشش میں وہ اصل مسائل سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔‘