Advice for the New Year

Read Qur’aan for ten minutes a day
Smile for others if not for yourself
Listen more intently
Watch a child discover something new
Don’t look for someone else to blame for your unhappiness
Be free with compliments
Encourage someone that is having a difficult day
Be less critical of others
Volunteer for a good cause
Be responsible for all your actions
Do not fall for peer pressure
Pray more and Worry less
Be quick to forgive others and learn to forgive yourself
Whatever you do, give it your best shot
Live your life in a way that you can look back on without regrets
Bury prejudices
Accept yourself for who you are and do not try to be someone somebody else wants you to be
Consider failures as learning opportunities
Challenge both, your body and your brain
Enjoy what you like about someone instead of trying to change what you do not
Advertisements

بیس میٹر اونچی دیوار کیسے ٹوٹی ؟

مصری فوج کے ایک طبقہ پر 1967 کی شکست نے گہرا اثر چھوڑا تھا ۔ انوارالسادات کے صدر بنتے ہی انہو ں نے اپنا صحراۓ سینائی کا علاقہ اسرائیل سے واپس لینے کی تجاویز دینا شروع کر دیں ۔ اس عرصہ میں اسرائیل نے بلڈوزروں کی مدد سے نہر سویز کے کنارے کنارے بیس میٹر یا چھیاسٹھ فٹ اونچی ریت کی دیوار بنادی تھی ۔ مصری فوج دریاۓ نیل کے کنارے ایک ریت کی دیوار بنا کر اسے عبور کرنے کی مشقیں کرنے لگی ۔ ان کو بہت مایوسی ہوئی کیونکہ ہر قسم کے بم اور میزائل ریت کی دیوار میں شگاف ڈالنے میں ناکام رہے ۔ ہوتا یوں تھا کہ میزائل ریت کے اندر پھٹتا مگر دیوار کو خاص نقصان نہ ہوتا ۔ ریت کو اگر کسی جگہ سے بھی ہٹائیں تو اس کے اوپر اور داہنے بائیں والی ریت اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔

ریت کا ڈھیرلگایا جاۓ تو ریت سرک کر زمین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 40 درجے کا زاویہ بناتی ہے ۔ اس طرح ریت کی 20 میٹراونچی دیوار کے لئے بنیاد یا قاعدہ تقریباً چھپن میٹر چوڑا بنتا ہے جبکہ اوپر سے چوڑائی صفر ہو ۔ اگر اوپر چوڑائی صرف 5 میٹر بھی رکھی جائے تو زمین پر اس کی چوڑائی 61 میٹر یا 197 فٹ ہو گی ۔ اتنی چوڑی دیوار کو توڑنا ناممکن سمجھ کر ہی اسرائیل نے یہ دیوار بنائی ہو گی ۔

فوج کے انجنئیرنگ ونگ میں ایک میجر مکینکل انجنیئر تھا ۔ وہ ریت کی دیوار گرانے کے ناکام تجربے دیکھتا رہا تھا ۔ ایک دن ڈویژن کمانڈر نے اس معاملہ پر غور کے لئے تمام آفیسرز کا اجلاس طلب کیا ۔ اس میجر نے تجویز دی کہ ریت کی دیوار آتشیں اسلحہ کی بجاۓ پانی سے گرائی جا سکتی ہے مگر کمانڈر نے اس میجر کی حوصلہ افزائی نہ کی ۔

وہ میجر دھن کا پکّا تھا اس نے کہیں سے ایک پانی پھینکنے والا پمپ لے کر ایک کشتی پر نصب کیا اور ریت کی ایک چھوٹی دیوار بنا کر دریا نیل کا پانی اس پمپ سے نوزل کی مدد سے ریت کی دیوار پر ایک ہی جگہ پھینکتا رہا ۔ تھوڑی دیر میں ریت کی دیوار میں شگاف بن گیا ۔ اس نے اپنے کمانڈر کو بتایا مگر کمانڈر نے پھر بھی حوصلہ افزائی نہ کی ۔

کچھ عرصہ بعد صدر انوارالسادات صاحب اس علاقہ کے دورہ پر آئے تو اس میجر نے ان کے سامنے تجربہ کرنا چاہا مگر کمانڈر نے ٹال دیا ۔ بعد میں کسی طرح اس میجر کی صدر انوارالسادات سے ملاقات ہو گئی اور میجر نے ان سے اپنے تجربہ کا ذکر کیا ۔ صدر انواراسادات نے میجر سے کہا کہ خفیہ طور پر تجربہ کرتا رہے اور پھر حساب لگا کر بتاۓ کہ 20 میٹر اونچی دیوار میں شگاف ڈالنا ممکن بھی ہے یا نہیں ۔ میجر دلیر ہو گیا اور ملک میں سب سے بڑا پمپ حاصل کر کے ریت کی دس میٹر اونچی دیوار بنا کر تجربہ کیا جو کامیاب رہا ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس سے بڑے پمپ چاہئیں تھے جو صرف خاص طور پر آرڈر دے کر یورپ کی کسی بڑی کمپنی سے بنواۓ جا سکتے تھے اور راز فاش ہونے کا خطرہ بھی تھا ۔ بہر کیف کسی طرح بہت بڑے پمپ بنوا کر درآمد کر لئے گئے ۔ پھر مضبوط کشتیاں بنائی گئیں 6 کشتیوں پر چھ چھ پمپ نصب کئے گئے ۔ 1973 عیسوی کے ماہ رمضان میں گولوں کی برمار کے دوران یہ کشتیاں نہر سویز میں اتار دی گئیں اور 20 میٹر اونچی دیوار کے تین مقامات کا رخ کر کے تین کشتیوں کے پمپ چلا دیئے گئے ۔ چھ کشتیوں کے پمپ باری باری چلاۓ گئے اور چند گھینٹوں میں بیس میٹر اونچی دیوار میں تین جگہوں پر کافی چوڑے شگاف بن گئے ۔ پل بنا کر مصری فوج ہلکے ٹینکوں سمیت صحراۓ سینائی میں داخل ہو گئی اور ریت کی دیوار کے دوسری طرف موجود ساری اسرائیلی فوج کا صفایا کر دیا ۔

تو جناب یہ تھا پانی کا کمال اور مکینیکل انجنیئرنگ کے علم کمال ۔

صیہونیوں کا توسیعی پروگرام پر عملدرآمد

>میں نے ریاست اسرائیل کی 1896 سے 1939 تک کی تاریخ 22 نومبر کو لکھی تھی
اور 30 نومبر کو اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کے اسباب لکھے تھے اور 8 دسمبر کو کچھ تاریخی نقشے پوسٹ کئے تھے ۔

اسرائیل نے 1955 میں غزہ اور اردن کی شہری آبادیوں پر چھاپہ مار حملے شروع کر دیئے ۔ جس سے فلسطینی مسلمان تو مرتے رہے مگراسرائیل کو کوئی خاص فائدہ نہ ہوا ۔ 1956 میں برطانیہ ۔ فرانس اور اسرائیل نے مصر پر بھرپور حملہ کر دیا جس میں مصر کے ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ ان مشترکہ فوجوں نے سینائی ۔ غزہ اور مصر کی شمالی بندرگاہ پورٹ سعید پر قبضہ کر کے نہر سویز کا کنٹرول سنبھال لیا جو حملے کی بنیادی وجہ تھی ۔ روس کی دھمکی پر اقوام متحدہ بیچ میں آ گئی اور جنگ بندی کے بعد سارا علاقہ خالی کرنا پڑا ۔ اس حملہ کے لئے امریکی حمائت حاصل نہ تھی ۔

اسرائیل نے امریکہ اور دوسرے پالنہاروں کی پشت پناہی سے 5 جون 1967 کو مصر ۔ اردن اور شام پر حملہ کر دیا اور غزہ ۔صحرائے سینائی ۔ مشرقی بیت المقدّس ۔گولان کی پہاڑیوں اور دریائے اردن کے مغربی علاقہ پر قبضہ کر لیا ۔ اس جنگ میں امریکہ کی مدد سے مصر ۔ اردن اور شام کے راڈار جیم (jam) کر دیئے گئے اور اسرائیلی ہوائی جہازوں نے مصر کے ہوائی جہازوں کو زمین پر ہی تباہ کر دیا ۔ اقوام متحدہ نے ایک قرار داد 242 کے ذریعہ اسرائیل کو تمام مفتوحہ علاقہ خالی کرنے کو کہا جس پر آج تک عمل نہیں کیا گیا ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے مطابق مزید پانچ لاکھ فلسطینیوں کو اپنے ملک فلسطین سے مصر ۔ شام ۔ لبنان اور اردن کی طرف دھکیل دیا گیا ۔ اس لڑائی کے بعد کی صورت حال اس نقشہ میں دکھائی گئی ہے

جب مذاکراتی اور سیاسی ذرائع سے اسرائیل پر کوئی اثر نہ ہوا تو مصر اور شام نے 1973 میں رمضان کے مہینہ میں اسرائیل پر حملہ کر دیا ۔ مصری فوج نہر سویز کے کنارے اسرائیل کی بنائی ہوئی بیس میٹر اونچی ریت کی دیوار میں شگاف ڈال کر سینائی میں داخل ہو گئی اور وہاں پر موجود اسرائیلی فوج کا صفایا کر دیا ۔ مصر نے اسرائیلی ایئر فورس کے دو سو کے قریب ہوائی جہاز سام مزائیلوں سے مار گرائے ۔ اسرائیل کے گھر گھر میں رونا پڑ چکا تھا ۔ ان کے چھ ہزار فوجی اور دوسو پائلٹ ہلاک ہو چکے تھے اور مصری فوج صحرائے سینائی عبور کر کے اسرائیل کی سرحد کے قریب پہنچ گئی تھی ۔ اگر امریکہ پس پردہ اسرائیل کی بھر پور امداد نہ کرتا تو فلسطین کامسئلہ حل ہو چکا تھا ۔ امریکہ بظاہر جنگ میں حصہ نہیں لے رہا تھا مگر اس کا طیارہ بردار بحری جہاز سینائی کے شمالی سمندر میں ہر طرح سے لیس موجود تھا اس کے راڈاروں اور ہوائی جہازوں نے اسرائیل کے دفاع کے علاوہ مصر میں پورٹ سعید کے پاس ہزاروں اسرائیلی کمانڈو اتارنے میں بھی رہنمائی اور مدد کی ۔ اسرائیلی کمانڈوز نے پورٹ سعید کا محاصرہ کر لیا جو کئی دن جاری رہا ۔ وہاں مصری فوج موجود نہ تھی کیونکہ اسے جغرافیائی لحاظ سے کوئی خطرہ نہ تھا ۔ اپنے دور حکومت میں جمال عبدالناصر نے ہر جوان کے لئے 3 سال کی ملٹری ٹریننگ لازمی کی تھی جو اس وقت کام آئی ۔ پورٹ سعید کے شہریوں نے اسرائیلی کمانڈوز کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور انہیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا ۔ سعودی عرب کے بادشاہ فیصل نے تیل کا ہتھار موثّر طور پر استعمال کیا ۔ پھر امریکہ ۔ روس اور اقوام متحدہ نے زور ڈال کر جنگ بندی کرا دی ۔

دہشتگرد حکمران
چیف آف سٹاف اسرائیل آرمڈ فورسز تو 1953 عیسوی میں ہی ایک بدنام زمانہ دہشت گرد موشے دیان بن گیا تھا مگر صیہونی دہشت گرد تنظیمیں (ارگون ۔ لیہی ۔ ہیروت ۔ لیکوڈ وغیرہ) اسرائیل میں 1977 تک حکومت میں نہ آسکیں اس کے باوجود فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدّد ہوتا رہا ۔ 1977 میں ارگون کے لیڈر مناخم بیگن نے وزیراعظم بنتے ہی غزہ اور باقی علاقے میں جن پر 1967 میں قبضہ کیا گیا تھا تیزی سے یہودی بستیاں بسانی شروع کر دیں تا کہ زمینی حقائق کو بدل دیا جائے اور کوئی ان سے علاقہ خالی نہ کرا سکے ۔

ان صیہونی تنظیموں کا پروگرام ایک بہت بڑی صیہونی ریاست بنانے کا ہے جس کا ذکر میں اس سے قبل کر چکا ہوں ۔ یہ نقشہ تھیوڈور ہرستل جس نے صیہونی ریاست کی تجویز 1896 میں پیش کی تھی نے ہی تجویز کیا تھا اور یہی نقشہ 1947 میں دوبارہ ربی فشمّن (Rabbi Fischmann) نے پیش کیا ۔

اسرائیل نے 1982 میں لبنان پر بہت بڑا حملہ کر کے اس کے بہت سے علاقہ پر قبضہ کر لیا ۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مہاجرین کے دو کیمپوں صابرا اور شتیلا کو گھیرے میں لے کر اپنے مسلحہ حواریوں فلینجسٹس(Flangists) کی مدد سے وہاں مقیم چار ہزار نہتے فلسطینی مہاجرین کو قتل کروا دیا جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے شامل تھے ۔ یہ کاروائی ایرئل شیرون کے حکم پر کی گئی تھی جو ان دنوں اسرائیل کا وزیر دفاع تھا ۔

عرب یہودی جو فلسطین کے باشندے ہیں ان کو فلسطین میں وہ مقام حاصل نہیں ہے جو باہر سے آئے ہوئے صیہونی یہودیوں کو حاصل ہے ۔ اس کا ایک ثبوت یہودی صحافی شمیر ہے جو اسرائیل ہی میں رہتا ہے ۔ دیگر جس لڑکی لیلی خالد نے فلسطین کی آزادی کی تحریک کو اجاگر کرنے کے لئے دنیا میں سب سے پہلا ہوائی جہاز ہائی جیک کیا وہ عیسائی تھی ۔ فلسطین کو یہودیوں سے آزاد کرانے کے لئے لڑنے والے گوریلوں کے تین لیڈر جارج حبش ۔ وادی حدّاد اور جارج حواتمے عیسائی تھے ۔ اتفاق دیکھئے کہ حنّان اشراوی ۔ حنّا سینی اورا اور عفیف صفیہ جنہوں نے اوسلو معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا وہ بھی عیسائی ہی ہیں ۔

۔
موجودہ صورت حال اس نقشہ میں دکھائی گئی ہے ۔ اس نقشہ میں غلطی سے Israeli constructed roads لکھا گیا ہے یہ دراصل Israeli controlled roads ہے یعنی یہ سڑکیں اسرائیل کے زیر انتظام ہیں ۔ گویا فلسطینی اپنے علاقہ میں بھی اسرائیل کے سکنجے میں ہیں ۔

۔
ان حقائق سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون دہشت گرد ہے ۔ فلسطینی مسلمان یا اسرائیلی صیہونی ؟

اردو بلاگـز اور اردو

ریحان علی مرزا صاحب نے کچھ اہم نقاط اٹھاۓ ہیں ۔ میں باقی اراکین اردو سیّارہ کی راۓ سے مستفید ہونے کی خاطر اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں ۔
ریحان علی مرزا صاحب نے صحیح لکھا ہے کہ “بہت سے حضرات بلاگ تو بنا لیتے ہیں پھر کچھ دن بعد لکھنا چھوڑ دیتے ہیں یا انگریزی میں لکھنا شروع کر دیتے ہيں ۔ انہوں نے یہ بھی صحیح لکھا ہے کہ سب مختلف ماحول کے مطابق مختلف سوچ رکھتے ہیں اور ہر ایک کو اپنے اپنے منفرد انداز میں لکھنا چاہیے ۔ ہم سب اپنے اپنے تجربہ کے مطابق لکھتے ہیں ۔کوئی اپنے ماحول سے تو کوئی اپنی زندگی سے “۔

جہاں تک اردو پر بحث کا تعلق ہے اس میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ یہ بحث تعمیری ہو ۔ آج سے پچاس سال قبل انگریزی بولنے والے بھی انگریزی پر بہت بحث کرتے رہےکیونکہ انہوں نے انگریزی بولنے اور لکھنے میں غلطیاں کرنا شروع کر دی تھیں ۔ مشہور رسالوں نے انگریزی کی تصحیح کے لئے اپنے رسالوں میں ایک ایک صفحہ مختص کر دیا تھا ۔ Readers Digest نے تو ایک صفحہ How to Increase Your Word Power بھی مختص کیا تھا ۔ چنانچہ اردو یا کوئی بھی زبان ہو اس کے صحیح بولنے اور لکھنے کا طریقہ سیکھتے رہنا چاہیئے اور اگر کوئی تصحیح کرے تو برا نہیں منانا چاہیئے ۔ ریحان علی مرزا صاحب نے خود ہی لکھا ہے “میں ابھی تک سیکھ رہا ہو اور ہمیشہ سیکھتا ہی رہونگا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا کرتا بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے”

یہ تو سب جانتے ہیں کہ بلاگ Web log کا مخفّف ہے اور لاگ (log) یا ڈائری (Diary) وہ ہوتی ہے جس میں روزمرّہ کے واقعات کا اندراج اپنی سوچ کے مطابق کیا جاتا ہے ۔ بلاگ (Blog) ایک کھلی ڈائری ہے جس کو ہر شخص پڑھ سکتا ہے اور اس میں لکھے ہوۓ مضمون پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے ۔ البتہ اس پر ذاتی قسم کی تنقید یا جملے نہیں ہونا چاہیئں ۔ آزادیء تقریر و تحریر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے کی دل آزاری کی جاۓ ۔ چنانچہ چاہیئے کہ مضمون لکھنے والا صرف اپنے تجربہ اور علم کا اظہار کرے اور تبصرہ کرنے والا اپنے آپ کو لکھے ہوۓ مضمون تک محدود رکھے ۔