آؤ بچو ۔ سنو کہانی

کہتے ہیں ایک خوبصورت باغ تھا جس کا رقبہ دس ہزار مربع میٹر تھا ۔ اس باغ میں مالٹے کے درخت لگے تھے ۔ ان درختوں پر دنیا کی بہترین قسم کے مالٹے لگتے تھے ۔ باغ کا مالک خاندان خوشحال تھا اور ہنسی خوشی دن گذر رہے تھے ۔ ایک دن کیا ہوا کہ مسلحہ آدمی آئے اور باغ پر قبضہ کر کے اس کے مالکوں پر حملہ کردیا ۔ مالکوں میں سے کچھ مر گئے اور کچھ اپنی جان بچا کر خالی ہاتھ بھاگ گئے ۔ جو لوگ بچ گئے تھے انہوں نے بہت واویلا کیا دہائی دی مگر کسی کو ان پر رحم نہ آیا ۔ آخر ان کا ایک آدمی ایک دن چوری چھپے اپنے چھنے ہوۓ علاقہ میں گھسا اور ایک درخت کو آگ لگا کر بھاگ گیا ۔ پھر کبھی کبھی یہ واردات دہرانہ شروع کر دی ۔ اس پر علاقہ میں شور مچ گیا ۔ بات وڈیرہ سائیں تک بات پہنچی ۔ وڈیرے نے فیصلہ کیا کہ باغ کا کچھ حصہ مالکوں کو واپس کر دیا جائے ۔ بڑی مشکل سے قابض ایک سو مربع میٹر یعنی کل باغ کا ایک فیصد واپس کرنے پر راضی ہوئے وہ بھی اس طرح کہ اس میں جتنے درخت تھے وہ اکھیڑ دیئے ۔ وڈیرہ سائیں اور اس کے حواریوں نے قابضوں کی دریا دلی کی اس بنیاد پر تعریف کی کہ کون لی ہوئی چیز واپس کرتا ہے ۔

بچو بات سمجھ میں آئی ؟

باغ کے مالک فلسطینی ۔ قبضہ کرنے والے اسرائیلی ۔ وڈیرہ امریکہ اور امریکہ کے چیلے حواری ۔

Advertisements

Arrest warrants issued for Sonia

The criminal case registered against Sonia Naz for illegally entering the Parliament House this year has been reopened with the issuance of her arrest warrants by an Islamabad court.
National Assembly Speaker Chaudhry Amir Hussain had lodged a report with the police under non-bailable offence in April this year when the lady was found inside the House without any legal documents.

The arrest warrants of Sonia — mother of two and currently living in a shelter house after being driven out of her home by in-laws and divorced by her husband — were issued on September 21 by the court of Civil Judge Mohammad Iqbal. Police have been directed to produce the accused in the court on October 4.

Before she was allowed bail, Sonia remained in Adiala Jail for three nights on charges of illegally entering the National Assembly hall, where she had gone to seek justice against SP Khalid Abdullah.

Sonia’s Islamabad-based lawyer Tayyab Shah confirmed to The News the issuance of arrest warrants of his client. A legal expert said Sonia might be declared proclaimed offender if she fails to appear before the court on the given date.

Sonia, too, confirmed to The News from Lahore that her former lawyer, who had sought her bail in April, had communicated that her arrest warrants were being issued by the Islamabad court and she would be arrested for not appearing before the court during the last four months. Another lawyer of the rape victim, Zulfikar Bhutto, who is pleading her cases in the Supreme Court told The News that the arrest warrants and other such tactics were aimed at harassing his client.

He claimed that this all was being done to stop her from appearing before the Supreme Court to pursue her case with regard to non-registration of FIR against SP Khalid Abdullah on charges of abduction, torture and rape.

Sonia was arrested after MNA Mehnaz Rafi pointed out her presence in the House leading to vociferous demands from many MNAs to get the woman arrested for entering the hall and sitting with them.

After coming to know about the facts that the accused was a victim of police highhandedness and not a terrorist, the security staff of National Assembly wanted to let her go home in Lahore but the speaker directed the authorities concerned to get a case registered against her under non-bailable offences.

The National Assembly Secretariat is still pursuing the case against Sonia in the court of law and is trying to get her sentenced to jail for entering the NA hall and sitting with the MNAs. Sonia has publicly held the speaker responsible for her miseries as instead of providing her justice, he ordered her sent to jail under non-bailable charges.

Meanwhile, talking to this correspondent, Sonia said she could not attend the proceedings of the case against her for several reasons. Sonia said after getting bail from Islamabad court, she was supposed to appear before the Lahore High Court, where she had filed a petition against SP Khalid Abdullah on May 6.

But fearing that the LHC verdict might go against him, SP Abdullah abducted her on May 3 and kept her in illegal confinement for 15 days. Before her release, Sonia alleged she was subjected to torture and rape and when she returned home, her in-laws drove her out of the house when they came to know about what happened to her.

Sonia said she was left with her two kids and had no idea what was going on as far as her case in Islamabad was concerned. Sonia said even now she could not come to Islamabad to appear before the lower court as she was facing serious security threats and was already residing in a shelter house away from her kids in some sort of “protective custody”.

“I am really at a loss to understand why the speaker is keen to get me sentenced to jail for entering the NA hall. Is it not enough punishment for a woman in distress to stay in jail for three days for the crime of sitting with MNAs,” she asked.

Should one laugh or cry at this revelation?

1. You must understand the environment in Pakistan. This has become a money-making concern. A lot of people say if you want to go abroad and get a visa for Canada or citizenship and be a millionaire, get yourself raped.
.
2. It is the easiest way of doing it. Every second person now wants to come up and get all the [pause] because there is so much of finances. Dr Shazia, I don’t know. But may be she is a case of money, that she wants to make money. She is again talking all against Pakistan, against whatever we have done. But I know what the realities are.
.
3. I am a fighter, I will fight you. I do not give up and if you can shout, I can shout louder.
.
4. Lady, you are used to people who tell lies. I am not one of them.
.
5. Are you a Benazir supporter?
.
6. Condi Rice has just issued another certificate of excellence to the general, saying that while Pakistan is not a complete democracy, Musharraf is an extraordinary man. Indeed he is.

ایاز امیر کی تحریر سے لئے گئے اوپر کے چند جملے ہمارے ملک کے صدر صاحب کی امریکہ میں گلفشانی اور امریکی حکومت کا سرٹیفیکیٹ ہیں ۔ عنوان پر کلک کر کے پوری تحریر ضرور پڑھئے ۔ یہ ان کی آج تک تحریروں میں سے بہترین ہے ۔
اس کے علاوہ یہاں کلک کر کے پڑھئے آگرہ سے نیو یارک تک ۔

Pet Names

Jimmy was invited to his friend’s home for dinner.

Morris, the host, preceded every request to his wife by endearing terms, calling her Honey, My Love, Darling, Sweetheart, Pumpkin, etc.

Jimmy looked at Morris and remarked, “That is really nice, that after all these years that you have been married, you keep calling your wife those pet names.”

Morris hung his head and whispered,” To tell the truth, I forgot her name three years ago.”

کیا جموں کشمیر کے لوگ پاکستانی ہیں ؟

ابھی میں نے تحریک آزادی جموں کشمیر کی سلسلہ وار تحاریر شروع ہی کیں تھیں کہ مجھ سے کچھ سوال پوچھے گئے ۔ ایک سوال کچھ اس طرح تھا کہ جموں کشمیر کے لوگ اگر اپنے آپ کو جموں کشمیر کا باشندہ سمجھتے ہیں تو پاکستان سے چلے جائیں ۔ جموں کشمیر کے متعلق میری آج سمیت مکمل تحاریر پڑھ لینے کے بعد بھی اگر ان حضرات کو اپنے سوالوں کا جواب نہیں ملتا تو بندہ حاضر ہے ۔

جب دھوکہ دہی سے صوبہ جموں کے مسلمانوں کو گھروں سے نکال کر قتل عام کیا گیا اور زندہ بچ جانے والوں کو پاکستان دھکیل دیا گیا تو پاکستان میں ان لوگوں کو پہلے شہروں سے باہر کیمپوں میں رکھا گیا اور پھر شہروں کے اندر کچھ خالی متروکہ بڑی عمارات میں رکھا گیا ۔ بہت سے لوگوں کو ان کے رشتہ دار اپنے گھروں میں لے گئے جو باقی رہے ان کو شروع میں مفت آٹا ۔ چاول ۔ چینی ۔ دالیں مہیا کئے گئے ۔ جو بتدریج گھٹتے گھٹتے چند سال بعد صرف آٹا رہ گیا ۔ جو لوگ مفت کا راشن پسند نہیں کرتے تھے وہ مختلف شہروں اور قصبوں میں منتقل ہو کر روزگار کی تلاش میں لگ گئے ۔ جو باقی رہ گئے ان کو کچھ سال بعد حکومت پاکستان نے 25 کنال فی خاندان کے حساب سے غیر آباد بارانی زمینیں بغیر مالکانہ حقوق کے دیں کہ زمین ڈویلوپ کر کے اپنی گذر اوقات کریں اور مفت راشن بند کر دیا گیا ۔ زیادہ تر زمینوں پر وڈیروں یا پیروں یا جرائم پیشہ لوگوں کی اجارہ داری تھی ان لوگوں نے یا تو جموں کشمیر کے لوگوں کو آباد ہی نہ ہونے دیا یا ان بے خانماں لوگوں کی ذاتی محنت میں سے زبردستی حصہ وصول کرتے تھے ۔ کچھ زمینیں پتھریلی تھیں اور اس علاقہ میں بارش بھی بہت کم ہوتی تھی اس لئے کاشت کے قابل نہیں تھیں ۔ کچھ ایسے خاندان تھے جن کی سربراہ بیوہ خواتین تھیں اور بچے چھوٹے تھے اس لئے کئی زمینیں آباد نہ ہو سکیں ۔ قبضہ کرنے والے پیروں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں جن کے آستانوں پر ہر سال عرس میں ہزاروں عقیدتمند شریک ہوتے ہیں ۔

جموں کشمیر کے لوگوں کو کیمپوں ہی میں بتایا گیا تھا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور آپ نے اپنے گھروں کو واپس جانا ہے ۔ فی الحال عارضی طور پر ہم آپ کا بندوبست کر دیتے ہیں ۔ اس مہمان نوازی کے جموں کشمیر کے لوگوں پر مندرجہ ذیل ضمنی نتائج مرتّب ہوئے ۔

پاکستان کے صرف چند محکموں میں اور وہ بھی بہت تھوڑا کوٹہ مقرر تھا اس سے زائد کسی سرکاری دفتر میں ملازمت نہیں مل سکتی تھی ۔

پاکستان کی تینوں افواج میں بھرتی کی ممانعت تھی ۔ باوجود یکہ پاکستان بننے سے پہلے جو جموں کشمیر کے لوگ افواج میں بھرتی ہوئے تھے وہ موجود تھے ۔ ایئر مارشل اصغر خان اس کی مثال ہے ۔
آزاد جموں کشمیر کی فوج اور سول محکموں میں بھرتی کی اجازت تھی مگر ان کا درجہ اور تنخواہ پاکستان کی ملازمت سے کم تھا ۔

پروفیشل کالجوں میں داخلہ کے لئے کوٹہ مقرر تھا جو اتنا کم تھا کہ بہت سے ہائی میرٹ والے طلباء و طالبات پروفیشل کالجوں میں داخلہ سے محروم رہ جاتے تھے ۔

غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین ۔ مکان ۔ دکان ۔ کارخانہ ۔ وغیرہ نہیں خرید سکتے تھے ۔

میرے والد صاحب نے نہ مفت راشن لیا نہ کوئی اور مراعات ۔ 1948 عیسوی میں ایک کارخانہ قائم کرنا چاہا تو پتا چلا کہ وہ غیر منقولہ جائیداد نہیں خرید سکتے ۔ ایک مقامی آدمی نے اپنی زمین اس شرط پر استعمال کرنے کی پیشکش کی کہ وہ گھر بیٹھے 25 فیصد منافع کا حصہ دار ہو گا ۔ گو زمین کی مالیت پروجیکٹ کاسٹ کا دسواں حصہ بھی نہ تھی والد صاحب کو ماننا پڑا ۔ جب کارخانہ تیار ہو کر پروڈکشن شروع ہو گئی تو وہ شخص کہنے لگا کہ مجھے منافع کا 50 فیصد کے علاوہ مینجمنٹ کے اختیارات بھی دو بصورت دیگر اپنا کارخانہ میری زمین سے اٹھا کر لے جاؤ ۔ اس نے دعوی دائر کر دیا ۔ یہ 1949 عیسوی کا واقعہ ہے ۔ کمپنی جج نے رشوت کھا کر فیصلہ کیا کہ میرے والد اسے منافع کا 50 فیصد دیں ورنہ کارخانہ چھوڑ کر چلے جائیں اور اس کے بدلے تیس ہزارروپیہ لے لیں ۔ وہ شخص تھوڑا تھوڑا کر کے بیس ہزار روپیہ دے کر فوت ہوگیا ۔ دس ہزار روپیہ اس کے بیٹے نے جو اب ہماری گلی میں رہتا ہے میرے والد صاحب کی وفات کے ایک سال بعد 1992 عیسوی میں مجھے ادا کیا ۔ جو کوٹھی 1949 عیسوی میں دس ہزار روپے میں خریدی جاسکتی تھی وہ 1992 عیسوی میں بیس لاکھ سے زائد روپے میں ملتی تھی ۔

ہم پہلے راولپنڈی میں کرایہ کے مکان میں رہے ۔ اس مکان میں بجلی اور پانی کا بندوبست نہیں تھا ۔ چند ماہ بعد ایک متروکہ مکان ایک شخص سے قیمت دے کر لیا مگر مالکانہ حقوق نہ ملے ۔ بعد میں جب مالکانہ حقوق دینے کا فیصلہ ہوا تو 1962 عیسوی میں دوسری بار اس کی قیمت حکومت پاکستان کو ادا کی ۔

پاکستان بننے کے پندرہ سال بعد 1962 عیسوی میں ایک مارشل لاء ریگولیشن جاری ہوا جس میں قرار دیا گیا کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو تمام معاملات میں پاکستانیوں کی برابر سمجھا جائے گا ۔ اس کے بعد جموں کشمیر کے لوگوں کو غیر منقولہ جائیداد خریدنے کی اجازت مل گئی اور ان کے بچوں کو جس صوبہ میں وہ رہتے تھے اس کے تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلے ملنے لگے ۔ لیکن اب بھی جموں کشمیر کے رہنے والے پاکستانی شہری نہیں ہیں ۔ یہ فیصلہ جموں کشمیر کے فیصلہ سے منسلک ہے ۔ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں کشمیر کے بھارت میں ادغام کا اعلان کر کے وہاں کے باشندوں کو بھارتی قرار دے دیا ہوا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو بھارتی نہیں کہتے ان کو بھارتی حکومت پاکستانی درانداز کہہ کر روزانہ قتل کرتی ہے ۔